عملی پروگرام
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۳۳
ہے۔ اسی طرح کسی انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی خود غرضی ہے۔ مسلمانوں کے اندر یہ اخلاقی اور روحانی اسپرٹ پیدا کرنا مجوزہ مشن کا سب سے پہلا نکتہ ہوگا۔ ۲۔ موجودہ حالات میں دوسرا ضروری کام یہ ہے کہ بڑے پیمانہ پر ہند و مسلم ڈائیلاگ شروع کیا جائے۔ کھلے ذہن کے تحت تمام فکری اور نظریاتی پہلوؤں پر گفتگو ہو۔ یہ کام مناظرہ کے انداز میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ خالص سائنٹفک انداز میں ہونا چاہیے، یعنی وہی انداز جو آج بھی مذہب کے سوادوسرے علمی موضوعات میں جاری ہے۔
۳۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمان صحت مند مقابلہ کے میدان میں پوری طرح داخل ہو جائیں ۔ شکایت اور احتجاج اور مانگ اور مطالبات کے طریقہ کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔ وہ رعایت حاصل کر کے جینے کے بجائے قابلیت کا ثبوت دے کر ملک میں اپنی جگہ بنائیں ۔ تعلیم ، تجارت، انڈسٹری، تمام سماجی اداروں اور پروفیشنل شعبوں میں امتیازی لیاقت پیدا کر کے آگے بڑھیں۔
۴۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں اقلیتی گروہ کے لئے جس غلبہ کی پیشین گوئی کی گئی ہے اس کی لازمی شرط، آیت کے مطابق ، صبر ہے۔ قرآن کا یہ بیان حتمی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ فطرت کے مذکورہ قانون کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کے لئے لازمی شرط یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر وتحمل کا مادہ ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پیش آمدہ صورت حال میں فوری رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کرنے کے لئے ہمیشہ وقت درکار ہوتا ہے۔ تا کہ آدمی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ معاملہ کو سمجھے ۔ وہ تحقیق اور مشورہ کے مراحل سے گزر کر کوئی گہری رائے قائم کرے ۔ اس طرح صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بے سوچے سمجھے اقدام سے بچے اور منصوبہ بند عمل کا طریقہ اختیار کرے۔ جو لوگ مسلمانوں کو مثبت رول ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں ان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر صابرانہ مزاج پیدا کریں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues