Al-Risala · May 2000 · page 23

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۳

کے ساتھ رہے، وہ کبھی منفی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ جو سینہ منفی نفسیات سے خالی ہو اسی سینہ کے اندر اعلیٰ ربانی کیفیات پرورش پاتی ہیں۔ ایسا ہی شخص عبادت اور اخلاق کے معاملہ میں اعلیٰ درجہ کا عمل کر سکتا ہے۔ ایسا ہی شخص وہ ربانی انسان بنتا ہے جس کو جنت میں جگہ دی جائے۔ صبر کا لمحہ ہمارے لئے رحمت خداوندی کے حصول کا لمحہ ہے، وہ کوئی نا مطلوب چیز نہیں۔ حبیب بھائی حیدر آباد کے ایک تاجر ہیں انھوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ "اسلامی حکومت قائم کرو" یہ سراسر غیر اسلامی بات ہے۔ اصل کام اسلام کے نظریہ کو قائم کرنا ہے نہ کہ کسی حکومت کو قائم کرنا۔ سارا فساد اس لئے ہے کہ لوگوں نے مکمل دین کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ ہمارا مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ حالانکہ اصل مقصد اسلامی نظریہ کی صداقت کو قائم کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے بہت صحیح بات کہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اسلام آج کل تشدد کے ہم معنی بن گیا ہے۔ جب کہ اسلام سراسر رحمت اور سلامتی کا دین ہے۔ حیدر آباد میں میرا قیام حبیب بھائی کے مکان پر تھا۔ پروگرام میں شرکت کے لئے میں ان کے گھر سے روانہ ہوا۔ گاڑی حیدر آباد کی مختلف سڑکوں سے گزرتی ہوئی ایک مقام پر رکی۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک پر شکوہ چھ منزلہ عمارت تکمیل کے آخری مرحلہ میں تھی۔ یہ جامعہ ریاض البنات کی نئی عمارت تھی جو مولانا سید اکبر الدین قاسمی کی کوششوں سے بن رہی ہے۔ ۱۹۹۷ سے پہلے اس جگہ اس قسم کی کوئی عمارت موجود نہ تھی۔ یہ صرف حال میں بن کر تیار ہوئی ہے۔ اسی عمارت کے کشادہ ہال میں وہ دوروزہ پروگرام ہوا جس میں شرکت کے لئے میں یہاں آیا تھا۔

جامعہ ریاض البنات کی یہ شاندار ملٹی اسٹوری بلڈنگ گویا نے حیدر آباد کی ایک علامت ہے۔ آج کے حیدر آباد کے مسلمانوں میں مختلف قسم کی تعمیری سرگرمیاں بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہیں۔ افراد اور جماعتیں بہت بڑے پیمانہ پر ترقی یافتہ حیدر آباد کی تعمیر میں مشغول ہیں۔ جامعہ ریاض البنات کو دیکھ کر میرے ذہن میں حیدر آباد کی سو سال کی تاریخ گھومنے لگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page