Al-Risala · May 2000 · page 24

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۴

حیدر آباد کے مسلمانوں کی گذشتہ تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس مدت میں ان کی ساری کوششیں حیدر آباد کی مسلم ریاست کے ساتھ وابستہ رہیں۔ تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ بس یہ لکھنے اور بولنے میں مشغول تھے کہ حیدر آباد کی مسلم ریاست باقی رہے۔ ان کے نزدیک اسی ریاست کے ساتھ ان کے دینی اور ملی وجود کا بقا منحصر تھا، حتی کہ ۱۹۴۷ کے انقلاب کے نتیجہ میں جب تاریخ نے حیدر آباد کو انڈین یونین کا ایک لازمی جغرافی حصہ بنادیا، اس وقت بھی یہاں کے مسلم رہنما قابل فہم طور پر اسی سوچ میں مبتلا ہے کہ حیدر آباد کسی نہ کسی طرح ایک مسلم سیاسی جزیرہ کے طور پر باقی رہے۔

لیکن اگر حقیقی حالات کو دیکھا جائے تو مسلم لیڈروں کی یہ کوشش اتنی زیادہ بے معنی معلوم ہو گی کہ اس کو کوئی عنوان دینا ہی نا ممکن نظر آئے گا۔

حیدر آباد کی مسلم ریاست کے زمانہ میں یہاں کے مسلمانوں کا حال کیا تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کی سوچ بس یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح وہ ریاست کے اندر کوئی ملازمت حاصل کر لیں۔ اس زمانہ میں یہاں کے تمام لوگ صرف ریاست کی اصلاح میں سوچتے تھے۔ ریاست کے تقریباً تمام مسلمان بس ریاستی ملازمین کا ایک گروہ بن کر رہ گئے۔ ۱۹۴۸ میں جب حیدر آباد میں پولیس ایکشن ہوا اور ریاست کا خاتمہ ہو گیا تو یہاں کے مسلمانوں نے سمجھا کہ ان کے وجود ملی کا ستون گر گیا اور اب یہاں مسلمانوں کے لئے کسی زندگی اور ترقی کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن آج کے حیدر آباد کا سروے کیجئے تو معلوم ہوگا کہ حیدر آباد کے مسلمان آج ۱۹۴۷ سے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں، معاشی اعتبار سے بھی اور ملی اور دینی اعتبار سے بھی۔

آج حیدر آباد کے مسلمانوں کے پاس ہر قسم کے ترقیاتی سامان وافر مقدار میں موجود ہیں۔ کار اور ٹیلی فون، پختہ مکانات، بچوں کی اعلیٰ تعلیم، سامان راحت، غرض اقتصادی ترقی کے تمام اسباب یہاں ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ اسی کے ساتھ مسجدیں اور مدرسے اور اسلامی ادارے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page