Al-Risala · May 2000 · page 25

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵

بہت بڑی تعداد میں سارے حیدر آباد میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ریاستی دور کے مقابلہ میں آج کے مسلمان کیوں زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ اس کے سبب پر غور کیجئے تو ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آئے گی۔ اصل یہ ہے کہ ریاست کے دور میں مسلمانوں کا ذہن تمام تر ریاست کے اوپر اٹکا ہوا تھا۔ اس ذہنی اٹکاؤ کی بنا پر ان کی فکری صلاحیتیں دبی ہوئی تھیں ۔ ان کی خداداد صلاحیتیں ابھرنے نہیں پاتی تھیں۔ جب ریاست ختم ہوگئی تو وہ ایک شاک سے دوچار ہوئے۔ ریاست کا خاتمہ ان کے لئے ایک شاک ٹریٹمنٹ (Shock Treatment) کے ہم معنی تھا۔

اب ہر آدمی دوڑ بھاگ کرنے لگا۔ کچھ لوگ حیدر آباد سے نکل کر باہر کے ملکوں میں چلے گئے اور وہاں تعلیمی اور اقتصادی جدوجہد شروع کردی۔ بقیہ لوگ حیدر آباد کے اندر کوشش میں مصروف ہو گئے۔ اس طرح ان کی وہ تمام صلاحیتیں جاگ اٹھیں جو ریاست پر انحصار کی وجہ سے ابھی تک سوئی ہوئی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست پر انحصار نے یہاں کے مسلمانوں کو زیروبنا رکھا تھا۔ مگر جب ریاست کا سہارا ختم ہوا اور انھیں اپنے آپ پر اعتماد کرنا پڑا تو اس کے بعد ایک ایک مسلمان ہیرو بن گیا۔

یہی اس دنیا میں زندگی کا راز ہے۔ اس دنیا میں انحصار (dependence) سے صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں اور خود اعتمادی سے صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ غیر پر اعتماد آدمی کو ترقی سے روک دیتا ہے اور اپنے آپ پر اعتماد اس کے لئے ترقی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ حیدر آباد کے اس اجتماع میں باہر سے بھی کئی لوگ آئے تھے۔ یہ سب الرسالہ کے حلقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ مثلاً بھوپال سے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی، جناب بلال الدین صاحب ۔ اسی طرح ناندیڑ سے جناب کشن راؤ پٹیل وغیرہ۔

۱۹۷۶میں جب ماہنامہ الرسالہ جاری ہوا تو مجھے محسوس ہوتا تھا کہ ساری دنیا میں اکیلا ہی اس مشن کے ساتھ ہوں۔ اس وقت یہ ایک اکیلے انسان کا سفر معلوم ہوتا تھا جو اس نے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page