Al-Risala · May 2000 · page 26

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۶

تاریکیوں کی لامتناہی فضا میں شروع کیا تھا۔ ہر آدمی اس کو دیوانگی کا ایک اقدام سمجھتا تھا۔ اس وقت غالباً کوئی بھی شخص نہ تھا جو یہ سمجھتا کہ الرسالہ چلے گا اور وہ ایک عالمی مشن کی صورت اختیار کرکے گا۔ مگر آج خدا کے فضل سے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ تقریباً ساری دنیا میں اس سے وابستہ افراد موجود ہیں اور اب یہ مشن خدا کے فضل سے انٹرنیٹ پر بھی آچکا ہے۔ مولاناکبر الدین قاسمی صاحب نے اپنی ایک تقریر میں درست طور پر کہا کہ الرسالہ مشن کو پھیلانے میں اس کے دوستوں سے زیادہ اس کے مخالفین کا ہاتھ شامل رہا ہے۔ لوگوں نے اتنی زیادہ اس کی مخالفتیں کیں اور دنیا بھر میں اس کے خلاف اتنا زیادہ پروپیگنڈا کیا کہ جو لوگ الرسالہ کا نام بھی نہ جانتے تھے وہ بھی اس سے واقف ہوگئے۔ مخالفین کے ذریعہ متعارف ہونے والے ان لوگوں میں ہزاروں آدمیوں کو صرف ان مخالفین نے الرسالہ کا قاری اور حامی بنادیا۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کی مخالفتوں کے بعد الرسالہ کو پڑھنا شروع کیا اور پھر وہ ہمارے دل کی آواز بن گیا۔

حیدر آباد میں تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک مجلس میں میں نے پوچھا کہ آپ میں سے کوئی صاحب یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کو ایک ایسی چیز کی معرفت ہوئی جو اسلام کی پوری تاریخ میں کسی کو نہیں ہوئی۔ میرا یہ سوال لوگوں کو عجیب معلوم ہوا۔ میں نے کہا کہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے (لا تنقضی عجائبہ)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دور میں لوگ قرآن میں نئے نئے حقائق دریافت کرتے رہیں گے۔ پھر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو لوگ ایمان لائے ان کو یہ ایمان درجہ معرفت میں ملا تھا، اسی قسم کا ایمان بعد والوں سے بھی مطلوب ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فان آمنوا بمثل ما آمنتم بہ فقد اہتدوا (البقرۃ ۱۳۷)۔ معرفت یا ڈسکوری کے درجہ میں ایمان کو پانا بلا شبہ ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ خدا کی رحمتِ عام سے یہ بعید ہے کہ وہ امت کے ابتدائی لوگوں کو تو اعلیٰ درجہ کا ایمان دے اور بعد والوں کے لئے صرف کم تر درجہ کا ایمان

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page