Al-Risala · May 2000 · page 27

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷

مقدر کرے۔ جب کہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مثل امتی مثل المطر لا يُدْرَى اوله خير أو آخره (مسند احمد ۳/۱۳۳) یعنی میری امت کی مثال بارش جیسی ہے۔ میں معلوم کہ اس کا پہلا حصہ زیادہ بہتر ہو گایا اس کا آخری حصہ۔

حیدر آباد کے اس قیام کے دوران جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک ڈاکٹر عبد الرشید صاحب تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شکر کی بیماری، دل کی بیماری اور بلڈ پریشر وغیرہ اکثر ذہنی ٹینشن سے پیدا ہوتی ہیں۔ میرا اپنا حال یہ ہے کہ میں مسلسل طور پر سخت قسم کے ذہنی ٹینشن میں رہتا ہوں۔ اگر میں یہ کہوں تو شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ میری یہ کیفیت سپر ٹینشن تک پہنچ چکی ہے۔ بلکہ میرا ذاتی احساس تو کبھی یہ ہوتا ہے کہ شاید کوئی بھی دوسرا شخص اتنے شدید ذہنی ٹینشن میں نہ جیتا ہوگا۔ اس کے باوجود خدا کے فضل سے میرا بلڈ پریشر بالکل نارمل ہے۔ شکر کی بیماری یا دل کی بیماری بھی مجھ کو نہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کے دل کو یہ اطمینان حاصل ہے کہ آپ نے سچائی کو پایا ہے۔ آپ کا ذہنی تناؤ اور ٹینشن صرف اوپری سطح کا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ قلب کی گہرائیوں نہیں آپ کے اندر حق پر ہونے کا سکون اور اطمینان موجود ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔ اور یہی اطمینان قلب آپ کی ظاہری جسمانی صحت کا راز ہے۔

جناب محمد حسین صاحب (۵۲ سال) سے مغل پورہ میں ملاقات ہوئی۔ آج کل انھوں نے اپنے آپ کو پوری طرح دعوت کے میدان میں وقف کر دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں ۱۹۹۳ سے برابر الرسالہ ۵ عدد ہر ماہ منگاتا ہوں۔ اور اس کو خاص طور سے علماء کے درمیان پھیلاتا ہوں۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ ماشاء اللہ الرسالہ کے ذریعہ لوگوں کو بہت فائدہ ہو رہا ہے اور لوگوں کے خیالات وسیع ہورہے ہیں۔ پڑھنے والوں کا مشترک احساس یہ ہے کہ الرسالہ میں اعراض کا قرآنی اصول، جس کی بار بار تشریح کی جاتی ہے، بے حد اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ جو آپ کے معترض تھے الحمد للہ میں نے ان کو معترف بنادیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ الرسالہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page