Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۸
ہم کو غیر مسلموں میں کام کرنے کے لئے بہترین مواد ملتا ہے۔
حبیب بھائی کا ایک فارم کیرالامیں ہے۔ ان کے صاحبزادہ محمد احمد صاحب اس کا انتظام دیکھتے ہیں۔ محمد احمد صاحب نے بتایا کہ وہ کار کے ذریعہ سفر کر کے وہاں جاتے ہیں۔ یہ مسلسل ۲۴ گھنٹہ کا سفر ہوتاہے۔ مگروہ رکے بغیر سفر کر کے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ جب آدمی کے سامنے ایک متعین نشانہ ہو تو وہ ہیرو بن جاتا ہے۔ کوئی معلوم نشانہ نہ ہو تو آدمی مسلسل اتنا لمبا سفر نہ کر سکے۔
حیدر آباد میں قیام کے دوران ہم لوگ مدرسہ ریاض البنات (اندرون تالاب کہنہ) گئے۔ یہاں مولانا سید اکبر الدین قاسمی کے بچوں کا قرآن شروع کرانے کی تقریب میں شرکت کی۔ کشن جے ونت راؤ پاٹل (نانڈیڑ) اس پروگرام میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ حیدر آباد میں دعوت و تربیت کے عنوان سے جو پروگرام ہوا اس میں میں شریک تھا۔ انہوں نے اپنا تاثر ایک صاحب سے بتاتے ہوئے کہا کہ ــــ مولانا نے جو بات کہی وہ اس بارے میں تھی کہ قرآن کا مطلوب انسان کون ہے اور یہ کہ ایسا انسان کیوں کر بنتاہے یہ بات انہوں نے بہت ہی اچھے ڈھنگ سے پیش کی۔ مولانا کا جو سمجھانے کا طریقہ ہے اس سے ہر انسان کی سمجھ میں بات آ جاتی ہے۔ مولانا کی تحریک انسانوں کی بھلائی کی ہے۔ دیگر علماء کی سرگرمی مسلمانوں کے لئے ہوتی ہے اور مولانا کی سرگرمی انسانوں کے لئے ہے۔ یہی بات مجھے ان سے قریب لائی ہے“۔ ۷ فروری کو ہم لوگ شہر سے روانہ ہو کر اہل پہنچے۔ یہاں ہماری گاڑی ایک زیر تعمیر بلڈنگ کے سامنے کھڑی ہوئی۔ چند سال پہلے جب میں آیا تھا تو یہاں ایک صحرائی ماحول تھا۔ بلا تشبیہ، گویا کہ یہ مقام ملت کے اجڑے ہوئے چمن کی ایک علامت بنا ہوا تھا۔ آج یہاں ایک عظیم اور خوبصورت عمارت ابھرتی ہوئی دکھائی دی، ٹھیک ویسے ہی جیسے پانی کے اندر سے کنول کا پھول بر آمد ہوتا ہے۔ یہ شاندار عمارت جامعہ ریاض الاسلام کی تھی جو مولانا سید اکبر الدین قاسمی اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے وجود میں آئی ہے۔ اور گویا کہ وہ نئے دور میں احیاء ملت کی