Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹
ایک پُر امید علامت ہے۔
گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ یہاں پانی کا کیسا انتظام ہے۔ جامعہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ہم نے بورنگ کر کے یہاں پانی نکالا ہے۔ مزید تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب بورنگ شروع کی گئی تو معلوم ہوا کہ نیچے سب پتھر ہی پتھر ہے۔ نیچے پچاس فٹ تک یہی حال تھا۔ بورنگ کرنے والے یہ دیکھ کر مایوس ہوگئے۔ مولاناسید اکبر الدین صاحب نے لا تقنطوا من رحمة الله کے اصول پر کہا کہ آپ لوگ بورنگ جاری رکھیں۔ یہاں تک کہ جب وہ لوگ ساٹھ فٹ تک پہنچے تو صاف شفاف پانی کا فوارہ ابل پڑا۔ اب یہاں اتنا زیادہ پانی نکلتا ہے کہ وہ نہ صرف مدرسہ والوں کی ضرورت کے لئے کافی ہے بلکہ آس پاس کے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اس جامعہ ریاض الاسلام کی زیر تعمیر عمارت کے سامنے ایک وسیع اور شاندار گیٹ بن رہا ہے۔ میں نے تجویز کیا کہ اس گیٹ کا نام زمزم گیٹ رکھا جائے۔ میں نے کہا کہ ’’زم زم‘‘ ایک علامتی نام ہے جو یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ایک صحرائی دنیا میں اسلام کا ایک شاندار باغ اگا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں کے اس صحرا میں بھی اسلام کا ایک باغ اگے گا جو اسلام کی روشنی سے آج کی دنیا کو منور کرے گا۔
اس کے بعد ہم لوگ مدرسہ تحفیظ القرآن پہنچے۔ یہاں کچھ دیر قیام رہا۔ اور بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر میر محمود علی خالد (پیدائش ۱۹۴۲) تھے وہ ’’الرسالہ‘‘ کے ایک پرانے قاری ہیں اور ’’الرسالہ‘‘ کے نقطۂ نظر سے پورا اتفاق رکھتے ہیں۔ ان سے میں نے کہا کہ الرسالہ مشن کے بارے میں آپ اپنا تاثر بتائیے۔ انھوں نے جواب دیا ’’آج سارے لوگ الرسالہ کی بات تو مانتے ہیں مگر وہ زبان سے اس کا اظہار نہیں کرتے۔ میں نے دوبارہ پوچھا، اس کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرا خیال تو یہ ہے کہ ذہنی طور پر اب تمام لوگ اس کو صحیح مانتے ہیں لیکن ماحول کے خوف سے اس کے اظہار کی ہمت نہیں کرتے۔ مجھے یقین ہے کہ اظہار نہ کرنے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اس کو غلط سمجھتے ہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے