Al-Risala · May 2000 · page 30

اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۰

اندر اعترافِ حق کی جرات نہیں۔

۷ فروری کی شام کو ہمارا قافلہ حیدر آباد سے چل کر محبوب نگر پہنچا۔ یہاں دینی تعلیم سے منسلک علماء اور دوسرے تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور دیر تک علمی اور دینی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں محبوب نگر میں پڑھی گئیں ۔ محبوب نگر جاتے ہوئے ہم چند ساتھی ایک گاڑی میں سوار تھے۔ ہر ایک اپنی زندگی کے انوکھے تجربات بتا رہا تھا۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے کہا کہ میں نے ایک نظم سنی تھی جس کا ایک مصرعہ جو مجھے یاد ہے وہ یہ تھا: لمحوں میں صدیاں جی آیا۔ حبیب حبیب بھائی نے کہا کہ میں ایک مجلس میں شریک ہوا۔ وہاں ایک شاعر نے ایک نظم سنائی اس کا ایک مصرعہ یہ تھا: میں نے جس کو جیون سمجھا وہ تو بس ایک پل نکلا۔ مولا نا سید اکبر الدین قاسمی صاحب نے بتایا کہ میں ایک بس میں سفر کر رہا تھا۔ اس میں کنڈکٹر کی سیٹ پر یہ با معنی شعر لکھا ہوا تھا:

اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے

محبوب نگر میں سب سے پہلے ہمارا قیام محمد عبد القادر صاحب کے مکان پر تھا۔ وہیں سب کے ساتھ رات کا کھانا کھایا۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ہم لوگوں کو جسمانی غذا سے زیادہ روحانی غذا کی فکر کرنی چاہئے۔ آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اس لئے کماتے ہیں کہ دنیا کے لذیذ کھانوں کو اپنے دستر خوان پر جمع کر سکیں اور اس کو کھا کر اور کھلا کر خوش ہوں۔ خدا نے اپنی دنیا میں دو قسم کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ جسمانی غذا اور روحانی غذا۔ عام لوگ صرف جسمانی غذا کی لذتوں سے آشنا ہیں۔ اس سے ہزاروں گنا بڑی لذت وہ ہے جو ٹھیک اسی دنیا میں ہمارے خدا نے ہمارے لئے فراہم کی ہے۔ کم تر غذا پر ٹوٹنا اور برتر غذا کو نظر انداز کرنا، میرے نزدیک خدا کی تخلیق کی ناقدری ہے۔ جسمانی غذا صرف ہمارے مادی وجود کے بقا کے لئے ہے جب کہ روحانی غذا ہماری ابدی حیات کا سرمایہ ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو کھانے کا شوق نہیں بلکہ کھلانے کا شوق ہے۔ میں نے جواب

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page