اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱
دیا کہ یہ شوق اچھا ہے مگر آپ کو چاہئے کہ مادی کھانا کھلانے کے بجائے لوگوں کو روحانی کھانا کھلائیں۔ مثلاً لوگوں کو اسلام کالٹر یچر پڑھانا۔ لوگوں تک اسلام کا بابرکت پیغام پہنچانا، لوگوں کو بے شعوری کے اندھیرے سے نکال کر شعور کے اجالے میں لانا، وغیرہ۔
محبوب نگر میں جناب عبد الحکیم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ پندرہ سال سے الر سالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ میں نے ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مطالعہ سے یہ سمجھا ہے کہ اس دنیا کا ہر معاملہ پر امن کوشش یا بات چیت کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے۔ تشدد کا طریقہ صرف مسائل میں اضافہ کرتا ہے، وہ مسائل کو حل نہیں کرتا۔ مجھے الر سالہ کے اس نظریہ سے پورا اتفاق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر موجودہ زمانہ کے مسلمان صرف اس ایک اصول کو پکڑ لیں تو ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ ترقی کی دوڑ میں وہ بھی دوسری قوموں کی طرح آگے بڑھ جائیں۔
۷ فروری کی شام کو محبوب نگر میں الفرقان ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک جلسہ ہوا۔ الفرقان ایجوکیشنل سوسائٹی یہاں کے کچھ تعمیر پسند لوگوں نے قائم کی ہے۔ میں نے کہا کہ ایجوکیشن بلاشبہ ایک بنیادی کام ہے۔ مسلمانوں کو اس میدان میں زیادہ سے زیادہ سرگرم ہونا چاہئے۔ میں نے مزید کہا کہ ایجوکیشنل کام کے دو شعبے ہیں۔ ایک ہے لوگوں کی تعلیم کا انتظام کرنا۔ اور دوسرا کام ہے لوگوں کے اندر صحیح فکر و شعور پیدا کرنا۔ اور یہ دونوں ہی کام یکساں طور پر اہم ہیں۔
اس اجتماع میں محبوب نگر کے تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس میں مجھے خطاب کرنے کا موقعہ ملا۔ اس خطاب کا موضوع تھا: اسلام دورِ جدید میں۔ اس موضوع کی نسبت سے ایک تفصیلی تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ نئے دور کا مطلب ہے بدلا ہوا دور۔ ہر بار جب حالات بدلتے ہیں تو وہ کسی نظریہ کے لئے ایک امتحان (ٹسٹ) ہوتا ہے۔ یعنی یہ سوال کے بدلے ہوئے حالات اس کی حقانیت کی تصدیق کرتے ہیں یا تردید۔