Al-Risala · January 2000 · page 34

عملی پروگرام

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۳۴

وہ ان کو جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کی تعلیم دیں۔

۵۔ کوئی بھی کام کرنے کے لئے اس کے مطابق بنیاد (base) درکار ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو اس ملک میں جو رول ادا کرنا ہے اس کے لئے بھی یہی ضروری تیاری درکار ہے۔ اور وہ بنیاد تعلیم اور کردار ہے۔ جو لوگ یہ درد رکھتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں اپنا مطلوب تعمیری کردار ادا کریں انھیں مہم کے انداز میں یہ کوشش شروع کردینا چاہئے کہ مسلمان صد فی صد تعلیم یافتہ بن جائیں۔ اس تعلیمی نشانہ کو پورا کئے بغیر آگے کا کام نہیں ہوسکتا۔ اسی کے ساتھ انھیں دوسری مہم یہ جاری کرنا ہے کہ مسلمان اعلیٰ کردار کے حامل بنیں ۔ مسجد اور مدرسہ سے لے کر اخبارات و رسائل تک ہر ذریعہ کو اس مقصد کے لئے پوری طرح استعمال کیا جانا چاہئے۔ تعلیم آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ اور اخلاق وکردار کے ذریعہ آدمی اس کا اہل بنتا ہے کہ وہ قابل اعتماد طور پر دنیا کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکے۔ ۶۔ آزادی کے بعد ملک میں جو سماج بنا وہ نفرت اور تشدد کا سماج تھا۔ اس منفی فضا میں ملکی تعمیر کا کام نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے مہاتما گاندھی نے آزادی (۱۹۴۷) کے وقت کہا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو مل کر امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا ہوگا۔ ورنہ میں اسی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا:

Hindus and Muslims should learn to live together in peace and amity otherwise I will die in the attempt. بدقسمتی سے ابھی تک نفرت اور کشیدگی کی یہ فضا ختم نہ ہوسکی۔ یہ فضا ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے اور پورے ملک کے لئے سخت مہلک ہے۔ اس کی موجودگی میں ملک کے اندر کسی تعمیری منصوبہ کی تکمیل ممکن نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر ممکن کوشش کرکے اس کو ختم کیا جائے ۔ ملک میں قومی یک جہتی اور برادرانہ محبت کا ماحول پیدا کیا جائے ۔ اس کے بعد ہی یہاں کوئی حقیقی ترقیاتی کام کیا جا سکتا ہے۔

۷۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت جو تلخی پائی جاتی ہے اس کا بڑا سبب وہ غلط

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page