اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۷
جب کہ دہلی کے صفائی کرمچاری صبح کو دیر سے اس وقت صفائی کا کام شروع کرتے ہیں جب لوگوں کی آمد و رفت سڑکوں پر شروع ہو جاتی ہے۔ حیدر آباد میں اس طرح کی بہت سی قابلِ ستائش چیزیں نظر آئیں۔ معلوم ہوا کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ یہ نئی گورنمنٹ کے زمانہ میں ہوا ہے۔ یہاں میں جن لوگوں سے ملا سب نے موجودہ ریاستی حکومت کی حسنِ کارکردگی کا اعتراف کیا۔ یہاں کچھ لوگ میری قیام گاہ (بیگم پیٹ)پرآئے اوربتایاکہ وہ احمدی جماعت (قادیانی جماعت) سے تعلق رکھتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارہ میں جو دعویٰ کیا اس کی بنیاد دو میں سے کسی ایک ذریعہ علم پر ہو سکتی ہے۔ سائنس یا قرآن۔ میں نے کہا کہ سائنس سرے سے اس کو نہیں مانتی کہ کوئی زندہ خدا ہے جو انسان کے اوپر الہام کرتا ہے۔ اس لئے سائنس آپ کے دعوئی کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دعوئی کی بنیاد قرآن ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کا اعلان کر چکا ہے۔ اس لئے قرآن کی بنیاد پر اس قسم کے دعوے کی سرے سے گنجائش نہیں۔ انھوں نے قرآن کی کچھ آیتیں (مثلًا تنزل عليهم الملائکہ) پیش کیں۔ میں نے کہا ان آیتوں سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے کی تائید نکالنا ایسا ہی ہے جیسے کچھ لوگ قرآن سے لفظ ودّا (مریم ۹۶) لے کر کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ وید بھی قرآن کی طرح ایک آسمانی کتاب ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں استدلال نہیں بلکہ صرف اپنی بے علمی کا اشتہار ہیں۔ کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ سماجی کام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ سماجی یا انسانی خدمت کے نام پر ایک کام شروع کریں اور غیر لوگوں سے تعاون کی اپیل کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ کسی سے کوئی اپیل نہ کریں۔ آپ صرف یہ کریں کہ جو مفید انسانیت کام آپ کے ذہن میں ہے اس کو اللہ کا نام لے کر شروع کر دیں اور اخلاص و دیانت کے ساتھ اس کی تکمیل میں لگ جائیں۔ اس کے بعد یہ یقینی ہے کہ لوگوں کا تعاون آپ کو حاصل ہونے لگے گا۔