Al-Risala · May 2000 · page 38

اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۸

ایک کام وہ ہے جس کے اچھا ہونے کا آپ اعلان کریں۔ دوسرا کام وہ ہے جس کا اچھا ہونا خود دوسروں کو دکھائی دیتا ہو۔ پہلی نوعیت کے کام میں بھی اگرچہ دوسروں کا تعاون ملتا ہے مگر دوسری نوعیت کے کام میں جو تعاون ملتا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔

حیدر آباد سے ایک انگریزی میگزین نکلتا ہے جس کا نام بھارتیہ پر جنا (Bharatiya Pragna) ہے۔ یہ آرایس ایس گروپ کا میگزین ہے۔ یہاں میں نے اس کا شمارہ فروری ۲۰۰۰ دیکھا۔ اس کے صفحہ ۳۹ پر انڈیا کے بارے میں حقائق (Facts about India) کے عنوان کے تحت کئی باتیں درج تھیں۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ سترہویں صدی عیسوی میں انگریزوں کے حملہ سے پہلے انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ امیر ملک تھا:

India was the richest country in the world till the time of the British Invasion in the early 17th century (p.39)

الفاظ کو بدل دیا جائے تو اس بات کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ انگریزوں کے حملہ سے پہلے مسلم عہد میں ہندوستان دنیا کا سب سے زیادہ امیر ملک تھا۔

اس سفر نامہ میں اسی قسم کا ایک اور حوالہ میں نے درج کیا ہے جس میں یہ اقرار کیا گیا ہے کہ آزادی سے پہلے برٹش دور میں ہندوستان دنیا کا ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک تھا۔ مگر آزادی کے بعد پچاس سال تک ملکی حکمرانوں کے ہاتھ میں رہنے کے بعد اب انڈیا کا یہ حال ہے کہ وہ اقتصادی اعتبار سے دنیا کے ملکوں میں ۱۷۷ویں نمبرپر ہے (ملاحظہ ہو زیر نظر رسالہ کا صفحہ ۴۲) جناب عبد الرحمن خاں صاحب (پیدائش ۱۹۵۸) الہ آباد بینک میں منیجر ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ سیاحت کے لئے حیدر آباد گئے۔ ۱۲ فروری ۲۰۰۰ کو وہ حیدر آباد پہنچے اور تین دن وہاں رہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ حیدر آباد کے بارہ میں اپنا کچھ تاثر بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے تجربہ میں ایسا محسوس ہوا کہ حیدر آباد کے لوگوں میں نسبتاً انسانی اوصاف زیادہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حیدر آباد ایئر پورٹ پر ہم اترے تو رات ہو چکی تھی۔ میں نے ٹیکسی کی ڈکی میں اپنا سامان رکھا اور پھر ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھ کر شہر کی طرف روانہ ہو گئے۔ ڈرائیور نے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page