اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۹
پٹرول پمپ پر ٹیکسی کھڑی کی تو میں نے کہا کہ مجھے ڈکی سے کچھ نکالنا ہے۔ اس وقت میری زبان سے یہ نکلا کہ میں نے غلطی سے اپنا پرس ڈکی میں رکھ دیا ہے۔ اس پر ڈرائیور بولا کہ جناب، یہ حیدر آباد ہے، یہ دہلی نہیں ہے۔ آپ اطمینان سے بیٹھے۔ آپ کا سامان محفوظ ہے۔ اس کے بعد جب میں حیدر آباد پہنچ کر وہاں گھوما اور وہاں کے مختلف طبقات کے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں تو اندازہ ہوا کہ ڈرائیور نے درست کہا تھا۔ یہاں کے لوگوں میں واقعہ انسانیت ہے۔ استثناء (exception) تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ اور یقیناً یہاں بھی ہوگا۔ مگر یہاں کے لوگوں کو میں نے عام طور پر دوسروں سے بہتر پایا۔
حیدر آباد کے مسلمانوں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی دوسرے مقامات سے زیادہ نظر آتی ہیں۔ یہاں کا مولوی طبقہ اور مسٹر طبقہ دونوں کثرت سے تعلیمی ادارے قائم کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنانے میں مشغول ہیں۔
حیدر آباد میں ایک اور خاص چیز ہے جو شاید ہندوستان کے کسی دوسرے شہر میں موجود نہیں۔ یہ صحافت ہے۔ حیدر آباد شہر ہندوستان کا واحد شہر ہے جس کے بارے میں بجاطور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کی ایک باقاعدہ صحافت ہے۔ یہاں کئی اچھے اخبارات نکلتے ہیں جو شہر کے بیشتر مسلم گھروں میں پہنچتے ہیں۔ یہ اخبارات حیدر آباد کے مسلمانوں کے درمیان مسلسل رابطہ کا کام کرتے ہیں۔ ان اخباروں کے ذریعہ یہاں کے مسلمان ہر روز ایک دوسرے کی سرگرمیوں سے واقف ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے یہاں کے مختلف اخبارات دیکھے۔ ہر اخبار میں کسی نہ کسی صورت میں یہاں کے مسلمانوں کی دینی اور تعمیری سرگرمیوں کا تذکرہ تھا۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں حیدر آباد میں اردو زبان کا بہت چرچا تھا۔ 1919 میں جامعہ عثمانیہ قائم ہوئی۔ اس کا ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ تمام مضامین بشمول سائنس یہاں اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔ آج جامعہ عثمانیہ کو دیکھیے تو اس کا منظر بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ 1948 کے انقلاب کے بعد یہاں اردو زبان کو تنزل کا شکار ہونا پڑا۔ 1956 میں سنجیواریڈی آندھرا پردیش