Al-Risala · May 2000 · page 40

اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰

کے بعد بھی عملی طور پر اردو کو سرکاری سر پرستی بہت کم حاصل ہوئی۔

مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ اردو زبان حیدر آباد میں آج پوری طرح زندہ ہے۔ اردو کو یہ زندگی سرکاری سر پرستی کے ذریعہ نہیں ملی بلکہ یہ خود اہلِ اردو کا کارنامہ ہے جو نامساعد حالات کے باوجود اردو کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

حیدر آباد کی اہمیت کا ایک اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن نے ہندوستان کا دورہ (۱۹۔ ۲۵ مارچ ۲۰۰۰) کیا تو دہلی اور بمبئی کے ساتھ وہ حیدر آباد بھی گئے۔ عجیب بات ہے کہ ۷ فروری کو جب کہ میں حیدر آباد میں تھا اس وقت ہندوستان کی پوری حکومت اور ملک کے دانشوروں کا پورا طبقہ اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ کلنٹن پاکستان نہ جائیں۔ نئی دہلی کی سرکاری شخصیتیں مسلسل واشنگٹن پہنچ رہی تھیں۔ حتی کہ نئی دہلی نے امریکہ کی ایک لابی کرنے والی کمپنی کو بہت بڑی رقم دے کر ہائر کیا تھا کہ وہ کلنٹن کو پاکستان جانے سے روکے۔ اس کوشش میں ہندوستان نے کثیر رقم خرچ کی۔ ۷ فروری کو حیدر آباد میں بعض ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ یہ بالکل نا ممکن ہے کہ امریکی صدر پاکستان نہ جائیں۔ میں جانتا تھا کہ اس قسم کی چیزوں کا تعلق لابینگ سے نہیں ہوتا بلکہ نیشنل انٹرسٹ سے ہوتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے لیڈر اور دانشور جو خود بھی ہمیشہ اپنے انٹرسٹ پر چلتے ہیں وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر رہے کہ امریکہ بھی اس معاملہ میں اپنے نیشنل انٹرسٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا اور اپنے دورہ میں پاکستان کو ضرور شامل کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اور بل کلنٹن نے ۲۵ فروری ۲۰۰۰ کو اسلام آباد کا دورہ کیا۔

۸ فروری ۲۰۰۰ کی صبح کو حیدر آباد سے واپس دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ حبیب بھائی کی رہائش گاہ سے روانہ ہو کر ہم لوگ ایئر پورٹ جا رہے تھے۔ حیدر آباد کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے راستہ میں ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ اس دنیا میں کسی انسان کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کا دل دوسروں کے لئے کھلا ہوا ہو۔ لوگوں کے لئے اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page