Al-Risala · May 2000 · page 41

Success is non-resident in India.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۱

دل میں شفقت اور خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ وہ فیاضی کے ساتھ لوگوں کے کام آتا ہو۔ صرف انہیں لوگوں کے ساتھ نہیں جن سے اس کو ریٹرن کی امید ہو بلکہ ہر ایک کے ساتھ۔ مثلاً ایک آدمی اسکوٹر رکشاپر بیٹھے اور ایک کلومیٹر تک جا کر اتر جائے پھر اس کے میٹر پر بحث کئے بغیر اس غریب رکشہ والے کو سو روپیہ کا نوٹ دے دے تو اس قسم کا فیاضانہ سلوک اس کی طرف اسی دنیا میں بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ لوٹتا ہے۔ بے غرضی، سادگی، سخاوت، انسانی خیر خواہی، کھلے دل کے ساتھ سلوک، حق سے زیادہ اپنی ڈیوٹی کا احساس، اس قسم کے اوصاف اعلیٰ ترین انسانی اوصاف ہیں اور جس آدمی کے اندر یہ اوصاف ہوں، اس کی کامیابی میں کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

۸ فروری کی صبح کو جہاز حیدر آباد سے آدھ گھنٹہ کی تاخیر کے ساتھ روانہ ہوا۔ جہاز کے اندر پڑھنے کے لئے مختلف اخبارات موجود تھے۔ دکن کرانیکل کا شمارہ ۸ فروری ۲۰۰۰ دیکھا۔ مشہور صنعت کار مسٹروجے پتھ سنگھانیاکے قلم سے ایک مضمون تھا جس کا عنوان یہ تھا__ کامیابی ہندوستان میں غیر مقیم ہے :

Success is non-resident in India.

اس مضمون میں چند مثالوں کے ذریعہ دکھایا گیا تھا کہ ایک ہندوستانی ہندوستان میں ناکام رہتا ہے اور وہی ہندوستانی باہر کے ملک میں جاکر بڑی بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اس کا سبب مضمون میں یہ بتایا گیا تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں بے شمار سوشلسٹ قوانین بنائے گئے۔ ان قوانین کے ذریعہ ایسی مصنوعی پابندیاں ملک میں رائج کی گئیں جو حوصلہ مند ہندوستانیوں کے لئے پاؤں کی زنجیر بن گئیں۔

اس معاملہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے مضمون نگار نے لکھا تھا کہ آزادی کے وقت ہندوستان تمام نو آبادیاتی ملکوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک تھا۔ اور اس کا مستقبل بہت روشن تھا۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ جی این پی کے اعتبار سے ہندوستان دنیا کے ۲۰۹ ملکوں میں ۷۷ ویں نمبر پر ہے۔ At Independence, India was among the most advanced of all the

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page