Al-Risala · January 2000 · page 35

عملی پروگرام

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵

فہمیاں ہیں جو مذہب کی نسبت سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے ضرورت ہے کہ وسیع پیمانہ پر اسلام کے صحیح تعارف کی مہم جاری کی جائے۔ مختلف زبانوں میں اسلام کے مختلف موضوعات پر مثبت انداز کی کتابیں لکھ کر انہیں بڑے پیمانہ پر غیر مسلموں کے درمیان پھیلایاجائے۔ ۸۔

۔ کوئی قوم صحیح رول صرف اس وقت ادا کر سکتی ہے جب کہ اس کو صحیح قیادت حاصل ہو جائے مگر صحیح قیادت کا تعلق خود قیادت سے زیادہ قبولیت قیادت کی صلاحیت سے ہے۔ قوم کے اندر یہ مزاج ہونا چاہئے کہ وہ تعمیری قیادت اور استحصالی قیادت کے فرق کو سمجھ سکے۔ وہ حقیقت پسندانہ کلام اور جذباتی کلام کو پہچانے۔ جس قوم میں یہ استعداد نہ ہو وہ ہمیشہ استحصالی قیادت کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ مسلم عوام میں یہ مزاج پیدا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کسی گہرے منصوبہ کے لئے مسلمانوں کو متحرک نہیں کیاجاسکتا۔ ۹۔سیاست ۔ سیاست کے میدان میں مسلمانوں کا رول اب تک منفی رائے دہندگی (negative voting) کی حد تک رہا ہے۔ یعنی کسی بنا پر جس سے انہیں ناراضگی ہو جائے اس کے خلاف ووٹ دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا۔ اس قسم کی منفی سیاست نہ مسلمانوں کے لئے مفید ہے اور نہ ملک کے لئے۔ جمہوریت دراصل طاقت میں اشتراک (power sharing) کی سیاست کا نام ہے۔ ہندوستان میں مسلمان مرکزی پارلیمنٹ کی تقریباً ۱۰۰ سیٹوں پر فیصلہ کن بن سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے اگر وہ اپنے ووٹ کو درست طور پر استعمال کریں تو ملک کے سیاسی نظام میں وہ فیصلہ کن تعمیری رول ادا کر سکتے ہیں۔ مگر ابھی تک یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ضرورت ہے کہ ان کے اندر صحیح سیاسی شعور پیدا کیا جائے تاکہ وہ جذباتی سیاست کے بجائے تعمیری سیاست کا طریقہ اختیار کر سکیں اور یہاں کے سیاسی مواقع کو مفید طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوجائیں ۱۰۔

۔ مسلمانوں کو اس ملک میں مثبت سیاست کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ۔ حالات کے اعتبار

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page