Al-Risala · May 2000 · page 43

There will be some delay in landing.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۳

جاننا ہو گا جو آپ کے قریب کی دنیا سے بالکل مختلف مگر حقیقی طور پر موجود ہے۔ یہ میرے لئے ایک وحشت خیز تجربہ تھا۔ مگر اس مسئلہ پر سوچتے ہوئے ایک اہم حقیقت میری سمجھ میں آئی۔ میں نے سوچا کہ دہلی ائرپورٹ پر گہرے کہر کی وجہ سے یہ حالت ہے کہ وہاں کے لوگوں کو کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ جبکہ عین اسی وقت اوپر کی فضا میں ہر چیز پوری طرح روشن ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں افکار و نظریات کی کثرت نے ایسی حالت پیدا کر دی ہے جس کو ذہنی کہر آلودگی (Befogging of the mind) کہا جا سکتا ہے۔ لوگ دماغ رکھتے ہوئے کچھ نہیں سوچ پاتے۔ ذہنی کہر آلودگی کے اس مسئلہ نے لوگوں کو حقیقت کے معاملہ میں اندھا اور بہرہ بنا دیا ہے۔

اس ”کہر“ سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ آدمی اپنی فکری سطح کو بلند کرلے۔ وہ کہر سے اوپر اٹھ کر وہاں پہنچ جائے جہاں ہر چیز روشن ہے۔ اسی کو اسلام میں زہد کہا گیا ہے۔ زہد آدمی کو مادیات سے اٹھا کر اس بلند فکری اور روحانی سطح پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ ذہنی کہر آلودگی سے بچ کر بے آمیز روپ میں سوچ سکے۔ اور حقیقتوں کو غیر مشتبہ انداز میں دریافت کرلے۔ جہاز دہلی سے روانہ ہو کر دو گھنٹہ بعد بمبئی پہنچا۔ بمبئی ائرپورٹ پر جہاز تقریباً ایک گھنٹہ ٹھہرا۔ تمام مسافر جہاز کے اندر بیٹھے رہے۔ جہاز نے یہاں سے دوبارہ پرواز کی اور پھر دوبارہ دہلی کے لئے روانہ ہوا۔ بمبئی سے دہلی تک کی پرواز دو گھنٹہ میں پوری ہوئی۔ ۔ ۸فروری ۲۰۰۰کو شام چار بجے جہاز دہلی پہنچ گیا۔

جہاز کا حیدر آباد سے دہلی پہنچ کر وہاں نہ اتر سکنا، کچھ دیر فضا میں منڈلانے کے بعد اس کا بمبئی آنا اور پھر یہاں سے دوبارہ دہلی جانا، یہ گویا ایک بحران کا واقعہ تھا۔ مجھے ایک قول یاد آیا کہ آدمی کی صلاحیت بحران میں پہچانی جاتی ہے۔

موجودہ زمانہ میں کمیونی کیشن نے بحران سے نمٹنے کے معاملہ کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ ہوائی جہاز کے مسافروں میں سے اکثر کے پاس موبائل ٹیلی فون تھا۔ انھوں نے جہاز کے اندر

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page