Al-Risala · June 2000 · page 6

قول خير

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۶

قول خير

روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ بہتر بات بولے ورنہ چپ رہے۔ من کان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او ليصمت (فتح الباری ۴۶۰/۱۰)

ابن حجر العسقلانی نے اس کی شرح کے تحت لکھا ہے کہ یہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے۔ کیونکہ وہ خیر و شر کے تمام پہلوؤں کے بارہ میں نہایت جامع رہنمائی دے رہی ہے (صفحہ ۴۶۱) اس حدیث رسول پر گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو اس سے کلام کے تین درجے معلوم ہوتے ہیں۔ ۱۔ معاملہ کے صرف مثبت پہلو کو بیان کیا جائے تاکہ لوگوں کو حوصلہ ملے۔ ۲۔ منفی پہلو ذکر ہو تو اس کے ساتھ مثبت پہلو کی نشان دہی بھی ضرور کی جائے۔ ۳۔ جس آدمی کے پاس کہنے کے لئے صرف منفی پہلو ہو اس کو خاموشی اختیار کرنا چاہئے۔ اللہ پر ایمان آدمی سے کبر کا جذبہ چھین لیتا ہے۔ وہ سراپا تواضع میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ خدا ہی سب کچھ ہے اس کے مقابلہ میں میری کچھ حیثیت نہیں۔ اس طرح آخرت پر ایمان اس کے اندر محاسبہ خویش کا بے پناہ جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ وہ موت سے پہلے خود ہی اپنے قول و عمل کی نگرانی کرنے لگتا ہے تا کہ وہ موت کے بعد کی سخت تر پکڑ سے بچ سکے۔ اللہ اور آخرت پر ایمان آدمی کو آخری حد تک سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ اور جو اپنی فکر میں پوری طرح سنجیدہ ہو جائے تو وہ بولے گا تو درست بات بولے گا ورنہ خاموش رہے گا۔ جس طرح بولنا ایک کام ہے اسی طرح چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ قول اگر ایک عمل ہے تو خاموشی بھی اسی طرح یکساں درجہ کا ایک عمل ہے۔ سچا انسان وہ ہے جو یہ جانے کہ کب بولنا ہے اور وہ کون سا موقع ہے جب کہ اس کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زبان بند کرلے۔ جو آدمی اس فرق کو نہ جانے دیا تو غیر سنجیدہ ہے یا غیر دانش مند۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page