Al-Risala · June 2000 · page 15

مسلسل کوشش

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۱۵

مسافر ان کے سامنے اپنے سرمہ کا تعارف کرانا شروع کیا۔ جب انھوں نے سرمہ کا تعارف کراتے ہوئے خوش آوازی کے ساتھ یہ شعر پڑھا: لگالو پیاری آنکھوں میں یہ ڈنڈ وشاہ کا سرمہ۔ تو تمام مسافروں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اور پہلے ہی دن ان کے سرمہ کی تمام شیشیاں فروخت ہو گئیں۔ سرمہ کے کاروبار میں زیادہ گنجائش نہ دیکھ کر انھوں نے یہ فیصلہ کیاکہ انہیں کوئی دوسرا کام کرنا چاہئے۔ اب انہوں نے دیوبند میں کتابوں کی ایک دکان کھولی۔ اس کا نام انہوں نے قومی کتاب گھر رکھا۔ یہاں وہ کتاب فروخت کرنے لگے۔ مگر کتابوں کا کام محنت کے باوجود زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ انہیں نظر آیا کہ اس کام میں ان کے لئے موجودہ حالت میں زیادہ ترقی کے مواقع نہیں ہیں۔ پھر انہوں نے تصنیف و تالیف کا کام شروع کیا۔ انہوں نے سیرتِ رسول اور تاریخِ اسلام پر کئی نصابی کتابیں لکھیں جو اتنی زیادہ مقبول ہوئیں کہ اب تک ان کے سیکڑوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ یہ کام بھی ان کے اقتصادی حوصلوں کی تسکین کے لئے کافی نہیں۔ چنانچہ ۱۹۶۱ میں وہ ہندوستان سے ایک عرب ملک میں چلے گئے۔ ابتداء میں وہاں انہوں نے مختلف ملازمتیں کیں، اس کے بعد انہوں نے ایک شہر میں ایک تجارتی کام کا آغاز کیا۔ یہ الد علایہ والاعلان (ایڈورٹائزنگ) کا کام تھا۔ انہوں نے اپنے اس کام میں پورا اہتمام کیا کہ گاہکوں کو جو سامان سپلائی کیا جائے وہ اعلیٰ معیار کا ہو۔ یہاں تک کہ اعلیٰ معیار ان کی کمپنی ال وحیدی کی پہچان بن گیا۔ ان کی کمپنی ال وحیدی کے نام سے مشہور ہے۔ اب اس کے دفاتر وہاں کے تین بڑے شہروں میں ہیں۔ ۲۰ سال کی مسلسل محنت کے بعد ان کا کام اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ اب ایڈورٹائزنگ بزنس میں عرب دنیا میں ان کی کمپنی کا درجہ تیسرے نمبر پر ہے۔

ایک شخص جس نے ۱۹۵۰ میں دس روپیہ بطور قرض حاصل کر کے اپنی چھوٹی سی تجارت شروع کی تھی، وہ ۲۰۰۰ء میں اس حیثیت کو پہنچ چکا ہے کہ اب اس کے تجارتی ادارے میں ساٹھ آدمی کام کر رہے ہیں۔ ان کو وہ ہر مہینہ ایک لاکھ ریال تنخواہ دیتا ہے۔ یہ رقم ہندوستانی سکہ کے اعتبار سے ۱۰لاکھ روپیہ سے زیادہ ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page