Al-Risala · June 2000 · page 16

مسلسل کوشش

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۱۶

سید فرید الوحیدی صاحب کو کامیابی اس طرح ن۔ بیس ملی کہ ان کو اچانک چھپر پھاڑ کر کوئی خزانہ مل گیا۔ بلکہ ان کی کامیابی تمام تر محنت اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے نوجوانی کی عمر بیس مولانا اسماعیل میرٹھی کی ریڈر میں پڑھیں۔ ان سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ مولانا اسماعیل میرٹھی کے یہ اشعار ان کی زندگی کے لئے رہنما ثابت ہوئے:

جو پتھر پہ پانی پڑے متصل تو بے شبہ گھس جائے پتھر کی سل رہو گے اگر تم یونہی مستقل تو اک دن نتیجہ بھی جائے گا مل کئے جاؤ کوشش مرے دوستو سید فرید الوحیدی صاحب جب زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوئے تو ابتداء تقریباً میں سال تک انہیں مختلف قسم کے معمولی کام کرنے پڑے۔ اس زمانہ میں وہ صبح سے شام تک اکیلے محنت کرتے تھے۔ محنت کے ساتھ انہوں نے دیانت داری (honesty) کو اپنا لازمی اصول بنالیا۔ انہوں نے خود نقصان اٹھایا مگر کبھی کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ ہیں سال کے بعد وہ وقت آیا جب کہ ان کا کام بڑھا اور انہوں نے مزید کارکن رکھ کر کمپنی کی صورت میں کام کرنا شروع کیا۔ انہوں نے شہر کی سڑکوں پر پیدل چل کر اپنے کام کا آغاز کیا تھا، اب وہ اس پوزیشن میں ہو چکے ہیں کہ جدید ترین کمیونی کیشن استعمال کر کے انٹر نیشنل بزنس کر سکیں۔ ۵ فروری ۲۰۰۰ کو دہلی میں سید فرید الوحیدی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے جو اقتصادی ترقی حاصل کی اس کا راز کیا تھا۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مختصر طور پر میری ترقی کا راز یہ تھا ــــ سادہ زندگی اور بلند سوچ: Simple living, high thinking انہوں نے کہا کہ کسی بھی کامیابی کے لئے مسلسل جدوجہد لازمی شرط ہے اور سادہ زندگی اور بلند سوچ آپ کو اس قابل بناتی ہے کہ آپ اپنے مقصد کے لئے وہ مطلوب عمل کر سکیں جس کو مسلسل جدوجہد کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page