Al-Risala · June 2000 · page 17

تخلیقی منصوبہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۱۷

تخلیقی منصوبہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان جیسی مخلوق پیدا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو فرشتوں نے اس کو سن کر کہا: اتجعل فيها من يفسد فيها و يسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك و نقدس لك قال اني اعلم مالا تعلمون (البقره ۳۰) یعنی کیا تو زمین میں ایسی مخلوق بسائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

انسانی تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ فرشتوں کا یہ اندیشہ بالکل درست تھا کہ انسان جیسی آزاد مخلوق یہی کرے گی کہ وہ زمین پر فساد برپا کرے اور خون بہائے۔ اسی کے ساتھ فرشتوں کا یہ کہنا بھی درست تھا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات سے جو چیز مطلوب ہے وہ حمد و تقدیس ہی ہے جو عملاً ساری کائنات میں ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود اللہ نے انسان جیسی مخلوق کو کیوں پیدا کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کائنات خدا کی مجبورانہ تسبیح و تقدیس کر رہی ہے۔ اب خدا کو مطلوب تھا کہ ایک ایسی مخلوق ہو جو خدا کی اختیاریانہ تسبیح و تقدیس کرے۔ اور یہ مقصد انسان جیسی با اختیار مخلوق کی پیدائش ہی کے ذریعہ ممکن تھا۔

خدا کے تخلیقی منصوبہ کی نسبت سے اصل قابل لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ انسان فساد اور خونریزی کرتا ہے۔ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اسی طرح کے پر خطر ماحول میں ان روحوں کا انتخاب کیا جا سکتا ہے جو خدا کی معیاری جنت میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ کسی اور ماحول میں ایسے قیمتی افراد کی پیدائش ممکن نہیں۔

خدا کو اپنی جنت میں بسانے کے لئے ایسے افراد درکار ہیں جو اختیاری تسبیح و تقدیس کا ثبوت دیں۔ اہل دماغ اپنے دماغ کے غلط استعمال سے دنیا کو افکار کا اندھیرا جنگل بنادیں پھر بھی ایک طالب حق اس کے اندر سچائی کو دریافت کرے اور اس کو اپنا لے۔ حالات کی کشاکش میں کوئی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page