Al-Risala · June 2000 · page 18

تخلیقی منصوبہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۱۸

شخص آخری حد تک غیر محفوظ (vulnerable) ہو جائے۔ مگر ایک اللہ کا بندہ اس پر قابو پانے کے باوجود اس کی غیر محفوظیت کو استعمال نہ کرے۔ عملی حالات کسی کو اقتدار اعلیٰ کا مالک بنادیں مگر وہ اپنے اقتدار کا غلط استعمال نہ کرے۔ کرے۔ آزاداقتصادی عمل کے دوران کسی کے پاس دولت کا ڈھیر جمع ہو جائے۔ مگر وہ اس دولت کو بھلائی کے راستوں میں فیاضی کے ساتھ خرچ کرے وغیرہ۔ ملائکہ کی پیدائش سے یہ مقصود تھا کہ ایک ایسی مخلوق وجود میں آئے جو تسبیح و تقدیس کے لئے پیدا کی گئی ہو اور وہ مکمل طور پر اور بلا انحراف تسبیح و تقدیس کے اسی عمل میں مصروف رہے۔ اس کے برعکس انسان کے بارے میں خدا کا تخلیقی منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق وجود میں آئے جس کو خونریزی اور ہر قسم کے فساد کا مکمل اختیار حاصل ہو، اس کے باوجود وہ پوری طرح خونریزی اور فساد سے بچے اور اپنے آزادانہ اختیار کے تحت تسبیح میں مشغول ہو جائے۔ جنت کیا ہے۔ جنت خدا کی بنائی ہوئی معیاری دنیا ہے۔ وہاں ہر قسم کے سامان حیات اپنی نفیس ترین صورت میں مہیا کئے گئے ہیں۔ وہاں نہ کسی قسم کا غم ہے اور نہ کسی قسم کا اندیشہ۔ وہ ہر قسم کی محدودیتوں سے کامل طور پر پاک ہے۔ مزید یہ کہ وہاں انسان کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ بلا روک ٹوک اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کی تکمیل کر سکے۔

ایسی نفیس دنیا صرف نفیس روحوں کے لئے مقدر ہے اور یہ نفیس روحیں وہی ہیں جو ناموافق اسباب کا پردہ پھاڑ کر خدا کی معرفت حاصل کریں۔ جو ہر قسم کی سرکشی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو خدا کی تابعداری میں دے دیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو بولنے کی آزادی تھی مگر وہ خدا کے خوف سے نہیں بولے۔ جن کو دوسروں کے اوپر دست درازی کا موقع تھا مگر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا۔ جو دوسروں کو بے عزت کر سکتے تھے مگر وہ جہنم کے اندیشے سے ایسی کارروائی سے باز رہے۔ جو دوسروں کی چیز کو اپنی چیز بنا سکتے تھے مگر آخرت کی پکڑ نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا۔ جن کی انا حقیقت کے اعتراف میں مانع تھی مگر انہوں نے اپنی انا کو کچل کر حقیقت کا کھلا اعتراف کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page