Al-Risala · June 2000 · page 19

ایمان ایک معرفت

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۱۹

ایمان ایک معرفت

قرآن میں کچھ مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : قالت الاعر با آمنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا اسلمنا ولما يدخل الايمان في قلوبكم (الحجرات (۱۴) یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہو۱۔

دوسری طرف قرآن میں کچھ اور مسلمانوں کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرلے۔ پس اللہ ان کو اس قول کے بدلہ میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ (المائدہ ۸۳-۸۵) ان دونوں آیتوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی حقیقت کیا ہے۔ وہ کون خوش نصیب لوگ ہیں جن کے ایمان کو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت حاصل ہوگی اور وہ ابدی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، جہاں وہ کبھی نہ ختم ہونے والی خوشیوں اور راحتوں میں زندگی گزاریں گے۔

ا۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کا مطلوب ایمان وہ ہے جو داخل القلب ایمان (الحجرات (۱۴) ہو، صرف زبان سے ایمان کے کلمات ادا کر دینا وہ چیز نہیں جس کی بنا پر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں مومن یا صاحب ایمان شمار کیا جائے۔ زبان سے جو کلمہ ایمان ادا کیا جاتا ہے وہ در حقیقت آدمی کی طرف سے قبولیتِ ایمان کا ایک لفظی اظہار ہے۔ اصل مطلوب ایمان یہ ہے کہ ایمان کی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page