Al-Risala · June 2000 · page 20

ایمان ایک معرفت

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۲۰

حقیقت دل کی گہرائیوں میں داخل ہو جائے، وہ آدمی کے شعور کا سب سے زیادہ اہم حصہ بن جائے، اسی کے ذریعہ آدمی کی شخصیت کی تعمیر ہونے لگے۔

۲- دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان معرفت حق کا دوسرا نام ہے۔ آدمی جب اپنے آپ کو اور خالق کو صحیح طور پر پہچانے اور شعور کی گہرائیوں کے ساتھ یہ جان لے کہ وہ صرف ایک عاجز بندہ ہے اور ہر قسم کی برائیاں اور تمام قسم کے کمالات صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہیں، پھر یہ علم اس کو اس حد تک متاثر کرے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دے، تو اسی گہرے ایمانی تجربہ کا نام معرفت ہے، اور یہ معرفت ایمان کا آغاز ہے۔ ایمان جب تک حق کی گہری معرفت نہ بنے اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں۔

۳- اس عارفانہ ایمان کی ایک علامت یہ ہے کہ ایک آدمی کو اس کا تجربہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو کا سیلاب بہہ پڑتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی اندرونی شخصیت میں ایک زلزلہ پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک زبردست قسم کی روحانی ہلچل برپا ہو جاتی ہے۔ یہی گہرے آنسو گویا اس کے اندر پیدا ہونے والے اس داخلی انقلاب کی تصدیق ہوتے ہیں۔ جس معرفت حق کے ساتھ آنسوؤں کی یہ تصدیق شامل نہ ہو، وہ معرفت حق اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر نہیں۔ ۴۔ یہ ایمان کوئی سادہ بات نہیں، اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک کائناتی شہادت ہے۔ یہ حقائق خداوندی کو دیکھنے سے پہلے گویا اس کا مشاہدہ کر لینا ہے۔ یہ مجبورانہ اعتراف کا وقت آنے سے پہلے اس کا اختیارانہ اعتراف کرنا ہے۔ یہ اس خداوند ذوالجلال کے حق میں اپنی گواہی درج کرنا ہے جس کی گواہی ہر لمحہ خدا کے مقدس فرشتے انجام دے رہے ہیں۔

۵- ایمان دراصل دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دینے کا فیصلہ ہے۔ یہ دنیا کی نعمتوں کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتوں کا طالب بننا ہے، جو لوگ اپنے سارے دل اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ اس طلب کا ثبوت دیں وہی وہ روحیں ہیں جن کو جنت کے ابدی باغوں میں داخل کیا جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس سے باہر آنے کی تمنانہ کریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page