Al-Risala · January 2000 · page 37

مظفر نگر کا سفر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۳۷

مظفر نگر کا سفر

سر سید ڈے ۱۹۹۴ کے موقع پر علی گڑھ یونیورسٹی ایسوسی ایشن کی مظفر نگر یونٹ نے روایتی ڈنر کے ساتھ ایک سیمنار منعقد کیا۔ اس کا موضوع تھا: مسلمانوں کے لئے ریزرویشن اور ایجوکیشن۔ یہ سیمنار ۲۳ اکتوبر ۱۹۹۴ کو مظفر نگر کے سعادت ہوسٹل میں ہوا۔ مجھ کو بطور چیف گیسٹ اس میں بلایا گیا تھا۔ سید شمیم حیدر زیدی اس کے پریسیڈنٹ اور راؤ عبد الحمید خاں اس کے سکریٹری ہیں۔

۲۳ اکتوبر کی دوپہر کو بذریعہ کار دہلی سے مظفر نگر کے لئے روانگی ہوئی۔ مظفر نگر کے دو صاحبان میرے ساتھ تھےــــ جناب رشید احمد صاحب اور جناب اجمل الرحمٰن صاحب۔ دہلی کی پرہجوم سڑکوں سے گزرتے ہوئے ہم یوپی کے مغربی علاقہ میں داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ سڑک کے دونوں طرف مسلسل سرسبز مناظر ہمارا استقبال کر رہے ہیں۔ اتنی زیادہ سرسبزی مشرقی یوپی میں نظر نہیں آتی۔

اس سرسبزی کا راز کیا ہے۔ اس کا راز اس علاقہ میں آبپاشی کا خصوصی نظام ہے۔ مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے ہم ایک مقام پر پہنچے جہاں ایک’’ ندی‘‘ کے اوپر پل بنا ہوا تھا۔ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ یہ کون سی ندی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ندی نہیں ہے بلکہ وہ نہر ہے جس کو اپر گنگا کینال کہا جاتا ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، گنگا ہمالیہ کی وادی سے نکلتی ہے اور بنگلہ دیش سے گزرتی ہوئی خلیج بنگال میں جا گرتی ہے۔ اس کی لمبائی ۲۵۰۰ کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ گنگا کے پانی کو، دو ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے آبپاشی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مگر مسلم سلطنت کے زمانہ میں بارہویں صدی عیسوی کے بعد اس آبپاشی کو بہت زیادہ ترقی حاصل ہوئی۔ مغل بادشاہوں نے گنگا ندی سے کئی نہریں نکالیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کا بیان ہے:

Irrigation was highly developed during the period of Muslim rule

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page