مظفر نگر کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۳۸
اس نہری نظام کو انگریزوں نے مزید ترقی دی۔ انھوں نے اپر گنگا کینال بنائی۔ ذیلی نہروں کو ملا کر اس کی لمبائی ۵۹۵۰ میل ہے۔ وہ ہر دوار سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا افتتاح ۱۸۵۶ میں ہوا تھا۔ اسی کے ساتھ انگریزوں نے لور گنگا کینال بنائی جو اپنی ذیلی نہروں کے ساتھ ۵۱۲۰ میل لمبی ہے۔ وہ ۱۸۸۰ میں شروع کی گئی۔ ان نہروں نے اس علاقہ میں زرعی انقلاب برپا کر دیا۔
انگریزوں نے ہندوستان میں اس طرح کے بہت سے تعمیری کام کئے۔ مگر اپنی نوجوانی کی عمر میں مجھے انگریزوں کے بارہ میں ہمیشہ صرف بری باتیں سننے کو ملتی تھیں۔ ان کی اچھی باتیں بعد کو صرف ذاتی مطالعہ کے ذریعہ مجھے معلوم ہوئیں۔ خبر رسانی کا یہی یک طرفہ طریقہ ہے جس نے تمام لوگوں کے ذہن کو موجودہ زمانہ میں منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔
راستہ میں میرٹھ آیا جو تقریباً دہلی اور مظفر نگر کے درمیان ہے۔ میرٹھ کا ایک قصہ یاد آ یا جو حیات اللہ انصاری صاحب کے ایک مضمون مطبوعہ قومی آواز ۱۳ اگست ۱۹۹۴میں چھپاتھا۔ میرٹھ میں ایک قاضی نجم الدین صاحب تھے۔ آزادی سے پہلے کے دور میں میرٹھ کے انگریز ڈپٹی کمشنر نے ایک بار شہر کے صاحب ِجائدادلوگوں کو بلا کر کہا کہ کانگریس یہ چاہتی ہے کہ میرٹھ میں وہ اپنی شاخ قائم کرے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ آپ میں سے کوئی صاحب دفتر قائم کرنے کے لئے اس کو اپنا مکان کرایہ پر نہ دیں۔ انگریز افسر نے سب سے وعدہ لیا کہ ہاں، ایسا ہی کیا جائے گا۔ قاضی نجم الدین صاحب کی باری آئی تو انھوں نے کہا: میں سرکاری حکم کی پابندی کروں گا اور کانگریس کو اپنا مکان ہرگز کرایہ پر نہیں دوں گا۔ البتہ بلا کرایہ کے اسے دے دوں گا۔ چنانچہ کانگریس کا دفتر قاضی نجم الدین کے گھر میں لمبے عرصہ تک رہا۔ مولانا آزاد اکثر وہاں آ کر مقیم ہوا کرتے تھے۔ موتی لال نہرو اورجواہرلال نہروبھی وہاں آتے رہتے تھے۔ قاضی صاحب کے گھر پر کئی بار چھاپے پڑے اورتلاشیاں ہوئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues