فطری حل
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۲۱
فطری حل
ہندستان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہاں کے مسلمان اکثریتی فرقہ کی طرف سے تعصب اور زیادتی کا شکار ہیں۔ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے یہ مواقع نہیں کہ وہ پر امن طور پر یہاں رہیں اور تعمیر و ترقی کے راستہ میں سرگرم ہوں۔ مگر یہ بات سراسر بے بنیاد ہے۔ اس کی حقیقت جاننے کا سادہ سا طریقہ یہ ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو تباہ کیا جارہا ہے اس سے پوچھئے کہ تم خود کیوں تباہی سے بچے ہوئے ہو۔ اسی طرح جو مسلم اخبار اس قسم کی باتیں چھاپے اس کے بارے میں تحقیق کیجئے کہ اس اخبار کا مالک تباہی کا شکار ہے یا ترقی کر رہا ہے۔ تقریبا یقینی ہے کہ ہر بار تحقیق سے یہی معلوم ہو گا کہ جو لوگ مسلمانوں کو اس قسم کی خبریں سناتے ہیں وہ خود اس ملک میں زبردست ترقی کئے ہوئے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر دوسرے ملک کی طرح ہندستان میں بھی بعض استثنائی واقعات ہوتے ہیں۔ اب لکھنے اور بولنے والے لوگ یہ کرتے ہیں کہ انہی استثنائی واقعات کو بڑھا چڑھا کر چھاپتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کے ذہنوں میں ہندستان کی ایک ایسی تصویر بنتی ہے جو واقعہ کے مطابق نہیں۔ وہ استثناء کو عموم سمجھ لیتے ہیں حالانکہ اس قسم کا استثناء ہمیشہ اور ہر سوسائٹی میں موجود رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منفی واقعات اگر ایک فیصد ہیں تو مثبت واقعات ۹۹ فیصد۔ اس سلسلہ میں یہاں ایک مثبت واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
مشتاق احمد صاحب (پیدائش ۱۹۳۲ء) سے ۷ فروری ۲۰۰۰ء کو دہلی میں ملاقات ہوئی ۔ وہ حج کے لئے جاتے ہوئے دہلی میں ٹھہرے تھے۔ وہ شیوگنج(راجستھان)کے (راجستھان) کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں حج کے ارادےسے شیوگنج سے روانہ ہوا تو وہاں کے نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ ہندوؤ ں نے بھی زبردست خوشی کا اظہار کیا۔ ہر ایک نے مجھے ہار پہنایا۔ تقریبا ڈیڑھ سو آدمی پہنچانے کے لئے ریلوے اسٹیشن آئے۔ ان میں کافی تعداد ہندوؤ ں کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues