Al-Risala · June 2000 · page 22

فطری حل

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۲۲

تھی۔ ہر ایک نے کہا کہ وہاں پہنچ کر ہمارے لئے دعا کیجیے۔

انہوں نے بتایاکہ شیوگنج میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ شرپسند افراد یہاں آتے ہیں مگر ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک کٹر ہندو لیڈر ۱۹۹۲ء میں آئے، انہوں نے رات کے جلسہ میں نہایت زہریلی تقریر کی۔ انہوں نے ہندوؤں سے یہاں تک کہا کہ مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ کرو اور ان سے لین دین نہ کرو اور کوئی دکان انہیں کرایہ پر نہ دو۔ اگر دیا ہو تو زبردستی خالی کرا لو، وغیرہ۔ واضح ہو کہ شیوگنج کی تجارت تقریباً ۹۹ فی صد ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔

مشتاق صاحب نے یہ قصہ بتاتے ہوئے کہاکہ شیوگنج میں مسلمان صرف پانچ فی صد ہیں۔ رات کی اس زہریلی تقریر کے بعد ہم لوگ یہ سوچنے لگے کہ دیکھیں صبح کو کیا ہوتا ہے۔ تاہم مسلمانوں نے اس کے خلاف کوئی احتجاج یا مظاہرہ نہیں کیا، نہ جلسہ کے اندر اور نہ جلسہ کے باہر۔ اس انتہائی دل آزار تقریر کے باوجود شیوگنج کے مسلمانوں نے اس کے خلاف کوئی احتجاجی کارروائی نہیں کی۔ صرف یہ ہوا کہ جناب محمد امین صاحب جوشیوگنج کے ایک مسلم تاجر ہیں وہ وہاں کے ایک ہندو پنڈت پھکر اج شری مالی سے ملے۔ وہ وشو ہند و پریشد کے مقامی لیڈر ہیں۔ محمد امین صاحب نے ان سے پوچھا کہ رات کو جو تقریر مہاراج نے کی ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا آپ اس کو ٹھیک سمجھتے ہیں۔ پنڈت پھکر اج شری مالی صاحب نے جواب دیا کہ یہ سب بکواس ہے۔ ۔ شیوگنج میں ہندو اور مسلمان بھائی بھائی کی طرح رہتے آئے ہیں اسی طرح رہیں گے۔ یہاں اس کا کوئی اثر ہونے والا نہیں۔ چنانچہ خود یہاں کے ہندوؤں نے مذکورہ تقریر کی بھرپور بھرشنا(مذمت)کی کی اورشیوگنج کے ماحول میں اس کا کوئی عملی اثر نہیں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ انسان کی فطرت امن کو پسند کرتی ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر معتدل ماحول چاہتا ہے کیوں کہ معتدل ماحول میں ہر ایک کا فائدہ ہے۔ جب شیوگنج کے مسلمانوں نے اپنی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی تو گویا کہ انہوں نے انسانی فطرت کو اپنا عمل کرنے کا موقع

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page