فطری حل
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۲۳
دیا۔ اور انسانی فطرت اپنا وزن ہمیشہ امن کے حق میں ڈالتی ہے۔ اس کے خلاف صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ کوئی نادان لیڈر کھڑاہواورجوابی اشتعال انگیزی کر کے معاملہ کو غیر ضروری طور پر اس طرح بڑھائے کہ فطرت کے لئے اپنا کام کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔ فطرت کا ایک اصول زمین پر چھوٹے بڑے بے شمار حیوانات ہیں۔ وہ ہر لمحہ اپنے اندر سے گندگی نکالتے رہتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ زمین بدستور صاف ستھری حالت میں موجود رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ حیوانی غلاظت سے بھر جائے۔
اس کا سبب فطرت کا ایک قانون ہے۔ جب بھی کوئی حیوان غلاظت خارج کرتا ہے تو عین اسی وقت بے شمار چھوٹے چھوٹے نا قابلِ مرئی کیڑے (bacteria) اس پر جمع ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کو ڈی کمپوز (decompose) کر کے گیس کی صورت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد یہ گیس اوپر اٹھ کر فضا میں تحلیل ہو جاتی ہے۔
یہ فطرت کا ایک عام قانون ہے۔ وہ جس طرح بقیہ دنیا میں جاری ہے اسی طرح وہ انسانی دنیا میں بھی جاری ہے۔ جب بھی انسانی دنیا میں کوئی برائی پیدا ہوتی ہے تو عین اسی وقت قدرت کا قانون عمل میں آ جاتا ہے۔ وہ اس برائی کو ختم کر کے دوبارہ اس کو معتدل حالت میں قائم کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ فطرت کا یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ناخوشگوار صورت حال پیش آنے کے بعد اگر ہم خود اقدام نہ کریں تو فطرت اپنے آپ اس کے خلاف سرگرم ہو جائے گی۔ اور ناخوشگوار صورت حال کو دوبارہ خوش گوار صورت حال میں تبدیل کر دے گی۔ انسان کی مداخلت کا انجام یقینی نہیں مگر فطرت کی مداخلت کا انجام یقینی ہے، فطرت خدا کے قانون کا نام ہے۔ اور خدا کا قانون جب عمل میں آ جائے تو اس کو انجام تک پہنچنے سے کوئی روکنے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues