دلائل قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹
قرآن کی حفاظت اور اشاعت کی یہ تاریخ آگے بڑھتی رہی۔ اس میں مختلف پہلوؤں سے نسل در نسل لوگ حصہ لیتے رہے۔ مثال کے طور پر بنوامیہ کے حاکم حجاج بن یوسف الثقفی (وفات ۹۵ھ / ۷۱۴ء) کے زمانے تک قرآن میں اعراب نہیں ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے غیر عالم اس کو پڑھنے میں غلطی کرتے تھے۔ حجاج نے یہ کیا کہ پورے قرآن پر اعراب لگوائے۔ اس کے نتیجہ میں یہ امکان ختم ہو گیا کہ کوئی شخص قرآن کو پڑھنے میں ادائیگی کی غلطی کرے۔ اسی طرح قرآن کے قدیم نسخے ابتدائی خط میں لکھے جاتے تھے۔ اس خط کا اسلوب بالکل سادہ تھا۔ اس میں موجودہ تحریری حسن موجود نہ تھا۔ اس کمی کو عباسی دور کے خطاط ابن مقلہ مقلہ(وفات۹۴۰ء)نے نے پورا کیا۔ ابن مقلہ خطاطی کا خصوصی ذوق رکھتا تھا۔ اس نے لمبی مدت کے مشق اور تجربہ کے بعد وہ خوبصورت عربی خط ایجاد کیا جس کو خط کوفی کہا جاتا ہے۔ موجودہ عربی خط اسی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس طرح ابن مقلہ کی کوششوں نے قرآن کو حسن خط کے دور میں داخل کر دیا۔
قرآن کی حفاظت کا یہ عمل مسلسل صدیوں تک جاری رہا۔ کچھ لوگ کامل اہتمام کے ساتھ قرآن کی نقلیں تیار کرتے اور اسی طرح کچھ لوگ کامل اہتمام کے ساتھ قرآن کو حفظ کرتے۔ کتابت اور حفظ کو ایک دوسرے سے چیک کرنے کا عمل بھی صدیوں تک جاری رہا۔ جب بھی کوئی شخص قرآن کا ایک نسخہ لکھ کر تیار کرتا تو کسی مستند حافظ کو پڑھوا کر وہ اس کو چیک کرتا۔ اسی طرح جب کوئی شخص قرآن کا حفظ کرتا تو اس کے حفظ کو لکھے ہوئے قرآن سے چیک کیا جاتا۔ یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ کچھ لوگوں نے فن قرأت ایجاد کیا۔ اس کے بعد ہر نسل میں ہزاروں لوگ اس عمل میں مشغول ہو گئے کہ وہ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کے لہجہ اور قرآت کو اس کی سابقہ حالت میں محفوظ رکھیں۔
حفاظت قرأت کا یہ اہتمام اتنے بڑے پیمانہ پر ہوا کہ آج جب ایک تربیت یافتہ قاری قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو سننے والوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ رسول اور اصحاب رسول
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues