Al-Risala · June 2000 · page 30

عربی زبان |

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۰

کی قرآت کو سن رہے ہیں۔ اس طرح رسول اور اصحاب رسول کی قرآت تاریخ کے دوش پر سوار ہو کر نسل در نسل سفر کرتی رہی تا کہ ہر زمانہ کے لوگوں کو اس کی گونج اپنی اصل آواز میں سنائی دیتی رہے۔

قرآن کی حفاظت کا یہ عمل نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ وہ پریس کے دور میں اور ریکارڈنگ کے دور میں پہنچ گیا۔ جس کے بعد کسی تبدیلی یا ضیاع کا کوئی سوال نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی انسانی حفاظت کے ساتھ اب اس کی پشت پر مشینی حفاظت کا اہتمام بھی شامل ہو گیا ہے۔ اس اہتمام مزید نے اب متنِ قرآن میں کسی بھی قسم کے بگاڑ کو عملاً ناممکن بنا دیا ہے۔

عربی زبان |

قرآن کی حفاظت کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ قرآن کی زبان عربی کو ہمیشہ کے لئے محفوظ رکھا جائے۔ یہ کام بھی امت کے علماء نے بہت بڑے پیمانہ پر انجام دیا۔ عربی زبان قرآن کے نزول کے وقت ہی ایک اعلیٰ زبان کی حیثیت رکھتی تھی تاہم فنی اعتبار سے اس کی تدوین نہیں ہوئی تھی۔ اس سلسلہ میں بہت لوگ اٹھے جنھوں نے نحو اور صرف اور لغت کے میدان میں غیر معمولی کام کیا۔ اور عربی زبان کو ایک مدون لغت کی حیثیت دے دی۔ قرآن کی زبان عربی کی حفاظت کا یہ کام اتنے بڑے پیمانہ پر ہوا کہ عربی زبان استثنائی طور پر آج بھی ابتدائی حالت میں زندہ ہے جس طرح وہ قرآن کے نزول کے وقت تھی۔ چودہ سو سال کی طویل مدت کے باوجود اس کے اندر کوئی لغوی تبدیلی نہ ہو سکی۔ جب کہ اس مدت میں دنیا کی تمام زبانیں بالکل بدل چکی ہیں۔

مثال کے طور پر جیفرے چاسر (Geoffrey Chaucer) انگریزی زبان کا مشہور شاعر ہے۔ چاسر ۱۳۴۲ء میں لندن میں پیداہوااور۱۴۰۰ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا زمانہ آج سے پانچ سو سال پہلے کا ہے۔ لیکن اس کی زبان موجودہ انگریزی زبان سے اتنی زیادہ مختلف ہے کہ آج

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page