مظفر نگر کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۳۹
۱۱۹۴ سے پہلے مسلمان ملک کے سیاسی عمل میں کتنا زیادہ شامل تھے، اس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔
اسی میرٹھ میں مولا نا اسماعیل میرٹھی (۱۱۹۴۔ ۱۸۸۲) پیدا ہوئے۔ میرا خیال ہے کہ مولا نا الطاف حسین حالی اور مولا نا اسماعیل میرٹھی اردو کے بہترین مصلح شاعر تھے۔ برٹش دور میں جب کہ لوگ ’’مشکلات‘‘ کا انکشاف کر کے لیڈری حاصل کر رہے تھے، مولا نا حالی نے ’’امکانات‘‘ کی نشاندہی کی۔ اسی طرح مولا نا اسماعیل میرٹھی نے قومی ترقی کے لئے سیرت و کردار کی اہمیت کو واضح کیا۔ اگر حالی اور میرٹھی کا کلام مسلمانوں میں پھیلا ہوتا تو اس کے غیر معمولی نتائج نکلتے۔ مگر بدقسمتی سے مسلمانوں میں اقبال جیسے شاعر زیادہ مقبول ہوئے، جنھوں نے مسلمانوں میں فخر اور جذباتیت کا مزاج پیدا کیا۔ جب کہ ضرورت تھی کہ ان کے اندر تعلیم اور تعمیر کا مزاج پیدا کیا جائے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں غیر حقیقت پسندی کا مزاج زیادہ تراسی کا نتیجہ ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا میں چوں کہ خیالی بلند پروازی سے کام نہیں چلتا اس لئے لوگ ڈبل اسٹینڈرڈ بن رہے ہیں۔ ملت کے اسٹیج پر تو وہ ’’ تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں‘‘، اور ’’ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق‘‘ جیسے پرجوش الفاظ بول کر حاضرین کی داد لیتے ہیں لیکن وہ اپنے ذاتی معاملات کو ہمیشہ حقیقت پسندانہ انداز میں حل کرتے ہیں۔
راستہ میں دوپہر کا کھانا چیتل گرینڈ (Cheetal Grand) میں کھایا۔ گرد آلود سڑکوں سے گزرتی ہوئی ہماری گاڑی کھتولی پہنچی۔ یہاں وہ ایک موڑ پر مڑ کر ایک گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔ اچانک ہمارے سامنے ایک سرسبز نخلستان موجود تھا۔ یہ ہوٹل چیتل گرینڈ کا وسیع کیمپس تھا۔ دہلی مسوری روڈ پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں ہر وقت لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ اس ہوٹل کے مالک ایک مسلمان ہیں۔ لیکن گا ہکوں میں ۹۹ فیصد ہندو ہوتے ہیں۔
چیتل گرینڈ والوں کو ابتداء ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے خلاف فرقہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues