Al-Risala · June 2000 · page 31

عربی زبان |

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱

کا کوئی عام انگریزی داں اس کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس کو صرف ڈکشنری اور مخصوص ماہرین کی شرح کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر قرآن کی زبان عربی کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ آج لکھی جانے والی عربی زبان عین وہی ہے جو نزولِ قرآن کے زمانہ میں تھی۔ قرآن اور حدیث اور صحابہ کی زبان کو سمجھنا آج کے ایک عربی داں کے لئے اتنا ہی آسان ہے جتنا آج سے چودہ سو سال پہلے کے ایک عربی داں کے لئے ممکن اور آسان تھا۔

عربی زبان کا اس طرح استثنائی طور پر اپنی اصل ابتدائی حالت پر باقی اور زندہ رہنا محض اتفاقا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہزاروں لوگ حفاظتِ زبان کے اس عمل میں لگے رہے۔ انھوں نے نحو اور صرف اور لغت اور دوسرے متعلق فنون میں غیر معمولی محنتیں کیں یہاں تک کہ ایک غیر مدون زبان کا مل معنوں میں ایک مدون علمی زبان بن گئی۔ حفاظت قرآن کی یہ محنت کتنے بڑے پیمانہ پر کی گئی، اس کی صرف ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ابو سعید الاصمعی ایک مشہور لغوی تھا۔ وہ ۱۲۲ھ میں بصرہ میں پیدا ہوا اور بصرہ ہی میں ۲۱۶ھ میں اس کی وفات ہوئی۔ الاصمعی کو اس بات کی دھن تھی کہ وہ عربی الفاظ کے وہ معانی دریافت کرے جو اصلی عرب باشندوں کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ لمبی مدت تک عرب کے صحراؤں میں گھومتارہاتا کہ عرب بدؤوں سے عربی کے بارے میں لسانی معلومات حاصل کرے۔ کیوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عرب بدؤوں میں عربی زبان اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔

قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں : فدمدم عليهم ربهم بذنبهم فسواها (الشمس 14]الاصمعی الاصمعی کو یہ فکر ہوئی کہ خالص عرب کس خاص مفہوم اور کس خاص موقع پر ”دمدم“ کا لفظ بولتے ہیں۔ اس دھن میں وہ عرب کے ایک بدو قبیلہ کے پاس گیا۔ وہ ایسا کر سکتا تھا کہ کسی بدو سے پوچھتا کہ تم لوگ دمدم کا لفظ کس موقع پر بولتے ہو مگر اس نے اس پر قناعت نہیں کی۔ اس نے چاہا کہ کوئی ایسا موقع آئے جب کہ ایک بدو بے ساختہ طور پر دمدم کا لفظ بول پڑے۔ اس مقصد کے لئے وہ ایک خانہ بدوش بدو خاندان کے ساتھ شامل ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page