تفسیر قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۲
تقریباً چھ مہینے گزر گئے لیکن بدو کی زبان سے دمدم کا لفظ اسے سنائی نہیں دیا۔ آخر کار ایک دن ایسا ہوا کہ ایک مقام پر خیمہ لگا ہوا تھا۔ اور وہاں دن کے کھانے کے لئے سالن پک رہا تھا۔ بدو مرد خیمے کے اندر تھا اور اس کی عورت باہر کچھ کام کر رہی تھی۔ الاصمعی بدو کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ سالن پکتے پکتے جب وہ لمحہ آیا کہ اس کی حرارت سوڈگری پر پہنچ گئی اور برتن کے اوپر رکھا ہوا ڈھکن بھاپ کے جوش سے ابل پڑاتو بدونے اپنی بیوی کو اس کی خبر دیتے ہوئے کہا: دم مت۔ یہ سنتے ہی الاصمعی خیمے سے نکل کر یہ کہتا ہوا بھاگا کہ :
"واللہ وجدت والله وجدت" خدا کی قسم میں پاگیا خدا کی قسم میں پاگیا۔ " اس طرح کئی سو سال تک ہزاروں اہل علم محنت کرتے رہے۔ وہ مختلف پہلوؤں سے عربی زبان کی حفاظت اور تدوین میں مصروف رہے۔ اس کا نتیجہ آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح قرآن کامل طور پر محفوظ ہے اسی طرح اس کی زبان عربی بھی کامل طور پر محفوظ ہے۔ زبان و ادب کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی نادر استثناء ہے، اس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں موجود نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج قرآن کوسمجھناعام لوگوں کے لئے اسی طرح ناممکن ہو جاتا جس طرح دوسری مذہبی کتابوں کے ابتدائی نسخوں کو سمجھنا عام لوگوں کے لئے ناممکن ہو چکا ہے۔ دوسری تمام مذہبی کتابیں ترجموں کی مدد سے پڑھی جاتی ہیں۔ جب کہ قرآن کا مطالعہ اس کی اصل زبان میں کیا جاتا ہے۔
تفسیر قرآن
قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس پر غور کریں اور اس سے ہدایت حاصل کریں: كتب انزلنه اليك مبرك ليدبروا آيته وليتذكر اولوا الالباب (ص ۲۹) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues