تفسیر قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۳
قرآن کو پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے سادہ طور پر اس کی قرأت کرنا۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کی آیتوں میں غور و فکر کر کے اس کو پڑھا جائے۔ قرآن کی قرأت سے ایک شخص کو اس کے سادہ معانی معلوم ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح قرآن کو سادہ طور پر سمجھنا بھی بلا شبہ مفید ہے۔ لیکن قرآن کے گہرے معانی صرف اس وقت سمجھ میں آسکتے ہیں جب کہ اس کی آیتوں پر غور و فکر کیا جائے۔ ایک صحابی کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ انھوں نے سورہ البقرہ کا مطالعہ غور و فکر کے ساتھ کیا تو اس میں انھیں تین سال کا وقت لگ گیا۔ قرآن کی سادہ قرأت کیاہے اس کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔ ہر آدمی جو عربی زبان جانتا ہے وہ سادہ قرأت کے ذریعہ قرآن کے معانی کو سمجھ سکتا ہے اور جو شخص عربی زبان نہیں جانتا وہ اپنی معلوم زبان میں قرآن کا ترجمہ پڑھ کر اس کو سمجھ سکتا ہے۔
اس اعتبار سے قرآن ایک آسان کتاب ہے (القمر:۱۷)جس ۱۷) جس آدمی کے اندر نصیحت لینے کا ذہن ہو اور وہ نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا نہ ہو تو قرآن کی سادہ قرأت یااس کا ترجمہ پڑھنا بھی اس کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ وہ سادہ قرأت کے ذریعہ بھی ایسی تذکیری باتیں پالے گا جو اس کی زندگی کو سدھارنے والی ہوں اور اس کے لئے اسلامی زندگی گزارنے میں مددگار بن جائیں۔ لیکن قرآن میں تدبر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ سادہ قرأت اورتدبر کے ساتھ قرأت کے فرق کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "انزل القرآن علی سبعة احرف، لكل آية منها ظهر وبطن، ولك حد مطلع" (مشکاۃ المصابیح قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا۔ اس کی ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے۔ اور ہر حد کا ایک مطلع ہے۔ مطلع عربی زبان میں دیکھنے یا جھانکنے کی جگہ کو کہتے ہیں اگر آپ زمین پر کھڑے ہو کر اس پاس کی چیزوں کو دیکھ رہے ہوں تو آپ کی حد نظر کم ہوگی اور آپ بہت تھوڑی چیزوں کو دیکھ پائیں گے۔ لیکن اگر آپ ایک ملٹی اسٹوری بلڈنگ کے اوپر کی چھت پر کھڑے ہوں تو بلند مطلع کی وجہ سے آپ کی حد نظر بہت بڑھ جائے گی ۔ اور آپ زیادہ دور تک کی چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues