تفسیر قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۴
اس حدیث میں مطلع کے فرق کی مثال سے بتایا گیا ہے کہ قرآن کو اس کے ظاہری الفاظ کے اعتبار سے پڑھنے میں اور اس کے معنی پر غور کر کے پڑھنے میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ جو آدمی صرف ظاہری الفاظ کے دائرے میں قرآن کو پڑھ رہا ہو وہ گویا نیچے کے مطلع سے قرآن کے مضامین کو دیکھ رہا ہے۔ ایسا آدمی قرآن کے صرف سادہ مفہوم تک پہنچ سکے گا۔ اس کے بر عکس جو آدمی معانی پر غور کرتے ہوئے قرآن کو پڑھے وہ گویا بلند مطلع سے قرآن کے مضامین کو دیکھ رہا ہے۔ یہ دوسرا آدمی قرآن کی گہرائیوں تک پہنچ جائے گا۔ قرآن کے مطالعہ کی ان دو مختلف قسموں کو علمی زبان میں اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے ایک قرآن کی سطور (lines) کا مطالعہ ہے اور دوسرا قرآن کی بین السطور (between the lines) کا مطالعہ۔ مطالعہ کی ان دونوں قسموں میں جو فرق ہے اس کو اہل علم بخوبی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن کے سطور کو پڑھنا اور قرآن کے بین السطور کا مطالعہ کرنا، دونوں میں جو فرق ہے اس کو یہاں مثال کے ذریعہ واضح کیا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تھے تو وہاں ایسا ہوا کہ آپ کی مجلس میں بعض لوگ زور زور سے بولنے لگے۔ یہ اسلامی آداب کے خلاف تھا۔ چنانچہ قرآن میں اس کی ممانعت کے لئے یہ آیت اتری:
اے ایمان والو، تم اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال حبط (برباد) ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں وہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کے لئے معافی ہے اور بڑا ثواب ہے۔ جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ نہیں رکھتے۔ اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس نکل کر آجاؤ تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (الحجرات ۲-۵)
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues