تفسیر قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵
قرآن کی ان آیتوں کو جو آدمی سادہ طور پر محض الفاظ کی سطح پر پڑھے گا وہ اس کے ظاہری مفہوم کو لے کر اس سے صرف ذاتی تقدس کا مسئلہ نکالے گا۔ وہ سمجھے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بہت زیادہ مقدس تھی اس لئے جو لوگ آپ کی مجلسوں میں بیٹھتے تھے ان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ تقدس اور احترام کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کے پاس بیٹھیں ۔ ایسا آدمی صرف قدیم مدینہ کے کچھ لوگوں کو اس کا مخاطب سمجھے گا۔ خود اپنی ذات کے لئے یا دوسروں کے لئے اس کے نزدیک اس میں کوئی ہدایت نہ ہوگی ۔
اس کے برعکس جو آدمی آیتوں پر غور کرے گا اور زیادہ گہرے معانی تک پہنچنے کی کوشش کرے گا وہ ان آیتوں میں ایک عمومی اور ابدی مسئلہ دریافت کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ زمانہ رسالت میں اگر اس کا تعلق ذات رسول سے تھا تو اب اس کا تعلق پیغام رسول سے ہو گیا ہے۔ جس طرح پیغمبر اسلام کی زندگی میں آپ کی آواز پر آواز بلند کرنا جائز نہیں تھا، اسی طرح آج یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی آدمی پیغمبر اسلام کی دی ہوئی تعلیمات کے خلاف غیر ضروری بحثیں نکالے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کا مظاہرہ کرے۔
ایسے آدمی کو آیتوں کا پورا مطالعہ بتائے گا کہ ان آیات میں جس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کی ایک روش وہ ہے جو ایمان اور تقویٰ اور صبر کے مطابق ہے۔ اور دوسری روش وہ ہے جو نفاق اور بے خوفی اور بے صبری کی علامت ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر لمحہ اپنا احتساب کرے۔ وہ اپنے اندر ایمان والی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرے اور نفاق والی صفتوں سے اپنے آپ کو آخری حد تک بچائے۔
اس معاملہ کی دوسری مثال لیجئے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے کہ قحط کے زمانہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی غلہ لینے کے لئے ان کے پاس مصر میں آئے ۔ جب ان کو غلہ دیا جا چکا تو اس کے بعد ایک واقعہ ہوا جو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues