تفسیر قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۶
پھر جب ان کا سامان تیار کرادیا تو اس نے پینے کا پیالہ (سقایہ) اپنے بھائی کے اسباب میں رکھ دیا۔ پھر ایک پکارنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو، تم لوگ چور ہو، انھوں نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا، تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم شاہی پیمانہ (صواع) نہیں پارہے ہیں۔ اور جو اس کو لائے گا اس کے لئے ایک بار شتر غلہ ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ انھوں نے کہا، خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے کے لئے نہیں آئے اور نہ ہم کبھی چور تھے۔ انھوں نے کہا اگر تم جھوٹے نکلے تو اس چوری کرنے والے کی سزا کیا ہے۔ انھوں نے کہا، اس کی سزا یہ ہے کہ وہ جس شخص کے اسباب میں ملے پس وہی شخص اپنی سزا ہے۔ ہم لوگ ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ پھر اس نے اس کے (چھوٹے) بھائی سے پہلے ان کے تھیلوں کی تلاشی لینا شروع کی۔ پھر اس کے بھائی کے تھیلے سے اس کو بر آمد کر لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی۔ وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ہم جس کے درجے بلند کرنا چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں اور ہر علم سے بالاتر ایک علم والا ہے (یوسف ۷۶)
ان آیتوں کو جو آدمی سادہ طور پر صرف الفاظ کی سطح پر پڑھے وہ اس کا مطلب یہ سمجھے گا کہ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں کے ساتھ جب ان کا سگا بھائی بن یامین آیا تو انھوں نے چاہا کہ اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لیں۔ مگر وہ سوتیلے بھائیوں پر اپنی شخصیت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے حضرت یوسف نے اپنے چھوٹے بھائی کے سامان میں شاہی دربار کا ایک برتن رکھوا دیا۔ اور اس کے بعد درباریوں کو اس میں شریک کر کے بن یامین کو چوری میں پکڑ وا کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اس قسم کا معاملہ بلاشبہ ایک پیغمبر کی شان کے خلاف ہے۔ لیکن جو آدمی صرف لفظی سطح پر قرآن کا مطالعہ کرے وہ ان آیتوں کا یہی مطلب لے گا۔ لیکن جو آدمی قرآن کی سطور سے گزر کر بین السطور تک پہنچنے کی کوشش کرے گا اور گہرائی میں اتر کر اس کا مفہوم جاننا چاہے گا وہ مذکورہ تفسیر کے بر عکس ایک اور تفسیر تک پہنچ جائے گا جو پیغمبر کی شان کے عین مطابق ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues