تفسیر قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۷
ایسا آدمی جب قرآن کی ان آیتوں پر غور کرے گا تو اس کا ذہن ایک مقام پر پہنچ کر رک جائے گا۔ وہ دیکھے گا کہ شاہی دربار کے کارکن جو چیز تلاش کر رہے تھے وہ صواع (یوسف (۷۲) تھا جو عربی میں قاعدے کے مطابق مذکر ہے اور اس کے لئے ضمیر مذکر (ہ) آنا چاہئے۔ لیکن شاہی دربار کے کارکن جب اونٹوں کے سامان کی تلاشی لیتے ہیں تو سامان میں جو چیز ان کو ملتی ہے اس کے لئے قرآن میں مونث کی ضمیر (ھا) استعمال ہوئی ہے (۷۶)
اب غور کرنے والا آدمی جب ضمیر کے اس فرق کو دیکھے گا تو وہ پائے گا کہ معاملہ کی اصل تصویر اس سے بالکل مختلف ہے جو ظاہری الفاظ میں دکھائی دیتی ہے۔ اس سراغ کی روشنی میں جب وہ مزید غور کرے گا تو اس پر منکشف ہوگا کہ معاملہ کی اصل تصویر یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی کو پہچان کر اپنا پانی پینے کا پیالہ (سقایہ) از راہ شفقت اس کے سامان میں رکھ دیا۔ سقایہ کا لفظ عربی قاعدے کے مطابق مونث ہے۔
دربار میں ناپ کے لئے ایک شاہی پیمانہ (صواع) تھا جو غالباً چاندی کا تھا۔ عربی قاعدے کے مطابق صواع کا لفظ مذکر ہے۔ اتفاق سے یہ صواع غلہ کے ڈھیر میں دب کر کہیں چھپ گیا۔ یعنی وہی واقعہ ہوا جس کو انگریزی میں مس پلیس (misplace) ہونا کہتے ہیں۔ قافلے کے جانے کے بعد جب دربار کے کارکنوں نے صواع کو نہیں دیکھا تو ان کو قافلہ والوں پر شبہ ہواجوابھی ابھی دربار سے نکلے تھے۔ چنانچہ انھوں نے قافلہ والوں کوروک کر ان کے سامان کی تلاشی لی۔ اس تلاشی میں صواع تو ان کے سامان سے برآمد نہیں ہوا البتہ سقایہ (پینے کا پیالہ) برآمد ہو گیا۔ یہ بات اس طرح سے معلوم ہوتی ہے کہ تلاشی کے دوران جو چیز برآمد ہوئی اس کے لئے قرآن میں مونث کی ضمیر (ھا) آئی ہے۔ حالانکہ اگر صواع برآمد ہو تا تو اس کے لئے قرآن میں مذکر کی ضمیر (ہ) آنی چاہئے تھی۔
یہ سقایہ حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یامین کے سامان سے نکلا تھا کیوں کہ برادرانہ محبت کے تحت حضرت یوسف نے اس کو اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا تھا۔ اب یہ ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues