Al-Risala · June 2000 · page 38

تفسیر قرآن

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۸

کہ دربار کے کارکنوں نے جب بن یامین کے سامان سے سقایہ نکالا تو انہوں نے بھائیوں سے کہا کہ تم نے اگرچہ صواع کی چوری تو نہیں کی ہے، لیکن تم نے ہمارے دربار کے ایک اور سامان سقایہ کو چرایاہے ا س لئے خود تمہارے قانون کے مطابق ہم تمہارے بھائی کو روک لیں گے اور اس کو تمہارے ساتھ جانے نہیں دیں گے۔ اس کے بعد وہ بن یامین کو اپنے ساتھ لائے اور ان کو حضرت یوسف کے حوالے کر دیا۔

قرآن فہمی کے لئے بہت سے علوم ضروری ہیں جن کا ذکر اہل تفسیر نے کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ قرآن کے مطالعہ کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے فنی مطالعہ، اور دوسرا مطالعہ وہ ہے جو قرآن سے نصیحت لینے کے لئے کیا جائے۔ جہاں تک قرآن کے فنی مطالعہ کا تعلق ہے، اس کے سلسلہ میں بہت سے علوم کی ضرورت ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ ان علوم سے بھی زیادہ جن کا ذکر اہل تفسیر نے کیا ہے۔ اگر اس حدیث کو سامنے رکھا جائے : لا تنقضی عجائبہ (قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے) تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان علوم کی فہرست ہر دور میں بڑھتی رہے گی اور وہ کبھی ختم نہ ہوگی۔

مگر جہاں تک نصیحت کے مقصد سے قرآن کے مطالعہ کا تعلق ہے اس کے لئے عربی زبان سے واقفیت کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ تقویٰ اور خشیت ہے۔ اس کی تصدیق خود قرآن سے ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اتقوا الله ويعلمكم الله۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ خود علوم ربانی کا ایک عظیم سر چشمہ ہے۔ اگر آدمی کے اندر گہرا تقویٰ موجود ہو تو قرآن کے معانی کو سمجھنے میں وہ اپنے آپ آدمی کے لئے رہنما بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page