تفسیر قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۳۹
ایک خط
برادر محترم جناب جسٹس قاضی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ برادرم جناب عبد السلام اکبانی صاحب نے ٹیلی فون پر یہ خبر دی کہ ۲۶ مارچ ۲۰۰۰ کو آپ کی صاحبزادی کا بمبئی میں انتقال ہو گیا۔ آپ کے اس غم میں میں پوری طرح شریک ہوں اور یہ امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو مرحومہ کے حق میں واقعہ بنائے جو قرآن میں ایک نیک بخت خاتون کی زبان سے ان الفاظ میں آئی ہے : رب ابن لی عندك بيتاً في الجنة (التحريم (۱۱) موت کے موقع پر مسلمان کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں: انا لله و انا اليه راجعون (البقره (۱۵۹) اس قرآنی آیت کا مطلب، دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ہر انسان جو اس دنیا میں آتا ہے اس کے پاس لازمی طور پر ایک ریٹرن ٹکٹ ہوتا ہے۔ ایک مقرر تاریخ کو بہر حال اس کو اس دنیا سے نکل کر آخرت کی دنیا میں چلے جانا ہے۔ موت کا ہر واقعہ گویا قدرت کے اس قانون کی یاد دہانی ہے۔ آدمی اگر اس حقیقت کو یاد رکھے تو اس کی پوری زندگی بدل جائے۔ وہ مکمل طور پر آخرت رخی زندگی (Akhirat-oriented life) گزارنے لگے۔
اس حادثہ کی خبر سن کر مجھے ایک حدیث یاد آئی جو صحیح مسلم میں ان الفاظ میں آئی ہے : عجبأ لأمر المؤمن ! إن امره كله له خير، وليس ذلك لاحد الا للمؤمن، إن اصابته سَرَّاءُ شكر فكان خيراً له، وإن اصابته ضراء صبر فكان خيراً له (مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کے لئے اس کے ہر معاملہ میں بھلائی ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی اور کے لئے نہیں۔ اگر اس کو کوئی خوشی ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے پھر وہ اس کے لئے بھلائی بن جاتا ہے۔ اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے پھر وہ اس کے لئے بھلائی بن جاتا ہے)۔ غیر مومنانہ روش یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو خوشی ملے تو وہ اس پر فخر کرے۔ اور اگر اس کو تکلیف پہنچے تو وہ مایوسی کا شکار ہو جائے۔ یہ دونوں حالتیں یکساں طور پر برائی کی حالتیں ہیں۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues