Al-Risala · June 2000 · page 40

۳؍اپریل۲۰۰۰ دعاگو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰

کے برعکس مومنانہ روش یہ ہے کہ آدمی کو خوشی ملے تو اس کا سینہ شکر کے جذبہ سے بھر جائے۔ اور اگر اس کو تکلیف کا تجربہ ہو تو وہ اس کو اللہ کا فیصلہ سمجھ کر اس پر راضی رہے۔ اور یہ دونوں حالتیں بلا شبہ بھلائی کی حالتیں ہیں۔

اسلام میں جنازہ کی نماز کے لئے جو دعا سکھائی گئی ہے وہ اس کی ایک مثال ہے۔ چنانچہ بچے کے انتقال پر اس کی نماز جنازہ میں جو دعا پڑھی جاتی ہے، اس کا ایک جزء یہ ہے : :اللهم اجعلها لى عندك ذخراً (الترمذی، کتاب الدعوات) یعنی اے اللہ تو اس کو میرے لئے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے۔ یہ سادہ طور پر ایک دعا نہیں بلکہ وہ ایک خوش خبری ہے۔ یہ گویا اس فیصلہ الہی کا اعلان ہے کہ کسی مومن کا بچہ یا بچی کم عمری میں وفات پا جائے اور وہ اس پر مطلوب صابرانہ رسپانس دے تو اس کا بچہ خدا کے پاس ذخیرہ (store) رہتا ہے اور آخرت میں پہنچ کر وہ ماں باپ کو زیادہ بہتر حالت میں مل جاتا ہے۔

خدا کا یہ قانون آدمی کے لئے کتنا تسکین بخش تصور ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کسی نہ کسی اعتبار سے کھونے کا تجربہ کرتا ہے۔ اس دنیامیں ہر یافت کے ساتھ ایک محرومی لگی ہوئی ہے۔ جس طرح گلاب کے درخت میں پھول کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں اسی طرح انسانی زندگی میں یہاں ہر آدمی کے لئے آرام کے ساتھ تکلیف اور خوشی کے ساتھ غم بھی لگا ہوا ہے۔ عام آدمی کے لئے اس دنیا میں غم کا تجربہ صرف غم کا تجربہ ہے۔ مگر وہ انسان جس کے اندر ایمانی شعور بیدار ہو چکا ہے وہ اپنی رہانی فکر کی بنا پر ہر نہیں میں ہے کا راز پالیتاہے وہ اپنی محرومی کو ہر بار ایک نئی یافت میں تبدیل کر لیتا ہے۔

یہ ایک قسم کے تحول یا تبدیلی کا معاملہ ہے۔ مومن اپنے غم کو دنیا میں صبر میں بدلتا ہے اور خدا اس کے صبر کو آخرت میں جنت کی صورت میں بدل دے گا۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو آخرت میں اس انعام کے مستحق ٹھہریں۔

۳؍اپریل۲۰۰۰ دعاگو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page