Al-Risala · January 2000 · page 40

مظفر نگر کا سفر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰

دارانہ پروپیگنڈا کیا گیا۔ ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ان کے خلاف سازشیں کی گئیں۔ مگر حکمت اور دانش مندی سے ہر چیز کا مقابلہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنے ہوٹل کو کامیابی کے اعلیٰ درجہ تک پہنچادیا۔

ہر قسم کی مخالفتوں کے باوجود ان کی کامیابی کا خاص راز ان کا معیار اور کوالٹی ہے۔ یہاں کی ہر چیز صفائی اور عمدگی کے اعلیٰ معیار پر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سڑک سے گزرنے والے لوگ بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ ان میں بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو دہرہ دون، ہردوار اور رشی کیش وغیرہ مذہبی مقامات پر جانے کے لئے ادھر سے گزرتے ہیں۔ ہم جب ہوٹل کے کیمپس میں داخل ہوئے تو وہاں کاروں اور ٹورسٹ بسوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔

ہماری گاڑی کے ڈرائیور ایک سردار جی تھے۔ وہ پوری مہارت کے ساتھ سفید ایمیسیڈ روڈڑا رہے تھے۔ وہ ہر گاڑی کو اپنے پیچھے چھوڑتے چلے جارہے تھے۔ دہلی سے مظفر نگر تک جو گاڑی بھی انھیں اپنے آگے جاتے ہوئے دکھائی دی، اس کو چند منٹ میں انھوں نے پیچھے کر دیا۔ اپنی عادت کے مطابق، میں نے سردار جی سے کچھ سوالات کئے ۔ مگر انھوں نے بس ایک دو لفظ میں مختصر جواب دیا۔ چنانچہ میں نے ان سے مزید سوال کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ تاہم اس تجربہ سے میں نے جان لیا کہ وہ اتنے کامیاب ڈرائیور کیوں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا پورا دھیان صرف ایک کام پر دیتے ہیں۔ ذہن کی یہی یکسوئی (concentration) کسی بھی چیز میں اعلیٰ کامیابی کے لئے ضروری ہے۔

دہلی سے باہر آنے کے بعد ہمارا راستہ زیادہ تر گرینڈ ٹرنک روڈ کے ذریعہ طے ہوا۔ یہ سڑک شیر شاہ سوری نے اپنے زمانہ حکومت (۱۵۲۵ء۔ ۱۵۴۰ء) میں بنوائی تھی۔ وہ مشرقی بنگال سے دریائے سندھ تک چلی گئی تھی اور ۱۵۰۰ کوس لمبی تھی۔ شیر شاہ سوری غیر معمولی قسم کا مدبر بادشاہ تھا۔ اس کی تعریف تمام ملکی اور غیر ملکی مورخین نے کی ہے۔ اس نے صرف پانچ سال تک حکومت کی اور اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page