Al-Risala · June 2000 · page 41

۳؍اپریل۲۰۰۰ دعاگو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۴۱

سوال

قرآن کی آیت هدى للمتقين (۲:۲) میں لفظ متقین اپنے اصطلاحی معنی میں ہے یا لغوی معنی میں۔ اصطلاحی معنی میں لیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ قرآن متقین بالفاظ دیگر مسلمین کے لئے تو ہدایت ہے، وہ غیر مسلمین کے لئے ہدایت نہیں اور اگر لغوی معنی میں لیں تو اگلی آیتوں میں متقین کی جو تعریف بیان کی ہے کہ وہ لوگ ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں یہ تعریفات غیر مسلمین پر کیسے صادق آسکتی ہیں۔ کیا ایمان بالغیب اور اقامہ صلوۃ اور انفاق کو بھی لغوی معنی میں لیکر اس مشکل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ (ابرار احمد رفعت، سورت) جواب قرآن عام طرز کی ایک مجرد تصنیف نہیں۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کے مختلف اجزاء حالات کی نسبت سے نازل ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ تقریباً ۲۳ سال میں اس کی تکمیل ہوئی۔ قرآن فہمی کے سلسلہ میں یہ ایک بے حد اہم نکتہ ہے۔ اس بنا پر ایسا ہے کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک مصداق خاص ہے جو سبب نزول کے اعتبار سے ہے۔ اور دوسرا اس کا مصداق عام، جو آیت کے تو سیعی انطباق سے تعلق رکھتا ہے۔

اس کی ایک مثال سورہ النور کی یہ آیت ہے۔ والذی تولى كبره مِنْھُمْ (النور ۱۱) سبب نزول کے اعتبار سے اس آیت کا ابتدائی مصداق قدیم مدینہ کا عبد اللہ بن ابی تھا۔ اور آیت کے تو سیعی انطباق کے اعتبار سے اس میں ہر وہ آدمی شامل سمجھا جائے گا جو کسی کو بد نام کرنے کے لئے ابن ابی جیسا پست کردار ادا کرے، خواہ وہ کسی بھی زمانے سے تعلق رکھتا ہو۔ اب سورہ البقرہ کی ابتدائی آیتوں کو لیجئے ۔ اس کی آیت نمبر ایک سے لے کر آیت نمبر ۷ تک کا خطاب رسول اللہ کے معاصر یہود سے ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر ۸ سے لے کر آیت نمبر ۲۰ تک کا تعلق قدیم مدینہ کے منافقین سے ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر ۲۱ سے لے کر آیت نمبر ۲۴ تک عام انسانیت سے خطاب کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر ۲۵ سے اہل ایمان کا تذکرہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page