۳؍اپریل۲۰۰۰ دعاگو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۴۲
شروع ہوتاہے سبب نزول کے اعتبار سے ان میں سے ہر آیت کا کوئی وقتی مصداق ہو سکتا ہے مگر اس کے ساتھ ہر آیت کا ایک توسعی انطباق بھی ہے جو ہر دور کے انسانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ذالک الکتاب میں الف لام عہد کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہی معہود کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ یہود و نصاریٰ پر جو آسمانی کتابیں بھیجی گئیں ان میں ایک آخری آسمانی کتاب کی بشارت موجود تھی۔ قرآن وہی آخری اور محفوظ کتاب ہے۔ مگر اس سے ہدایت اسی کو ملے گی جو اس کی ضروری شرطوں کو پورا کرے۔
مدینہ میں اس وقت جو یہود آباد تھے وہ اپنے آپ کو اپنے نبیوں کی تعلیمات کا حامل بتاتے تھے۔ ان کے یہاں ایمان، نماز، زکوۃ وغیرہ کا وجود بھی پایا جاتا تھا۔ مگر ان کے یہاں اس کی اصل روح غائب ہو چکی تھی۔ فرمایا کہ قرآن اگرچہ سراپا کتاب ہدایت ہے مگر اس کے ذریعہ صرف اس شخص کو ہدایت ملے گی جس کے اندر حقیقی معنوں میں متقیانہ مزاج پایا جاتا ہو۔ الذین یومنون بالغیب جو غیبی حقیقتوں کو ماننے کے لئے تیار ہو، جس کے اندر عبادت الہی کی روح موجود ہو، نمائش راستے کے بجائے اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو اپنی مذہبی عصبیت میں مبتلا نہ ہو۔ جو لوگ اس قسم کی صفات رکھتے ہوں وہ بہت جلد قرآن اور صاحب قرآن کو پہچان لیں گے اور اس سے ہدایت حاصل کریں گے۔
اس کے بعد ان آیتوں کا ایک عمومی اور توسعی پہلو ہے۔ اس اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن اپنی ذات میں بلاشبہ ہدایت ہے مگر اس دنیا میں کسی کتاب سے ہدایت لینے کے لئے ضروری ہے کہ ہدایت لینے والا ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو۔
متقی کا اصلی اور لغوی مفہوم محتاط (cautious) ہے۔ انسان کی یہی صفت ہے جو اس کو حق کے معاملہ میں سنجیدہ بناتی ہے اور وہ اس کا سچا متلاشی بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایمان کی اصل معرفت ہے اور معرفت صرف اس کو ملتی ہے جو دلیل سے ثابت ہو جانے کے بعد اس کو مان لینے کا مزاج رکھتا ہو۔ صلاۃ کی شرط سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے اندر تسلیم و رضا (submission) کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues