۳؍اپریل۲۰۰۰ دعاگو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۴۳
صفت موجود ہو۔ زکوٰۃ کی اصل حقیقت اپنی ذات میں دوسرے کا حق تسلیم کرنا ہے۔ ہر منزل کتاب پر ایمان لانے کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی گروہی تعصبات سے پاک ہو، وہ اپنے مانوس اکابر کے باہر ظہور میں آنے والے داعیانِ حق کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مصداقِ عام کے اعتبار سے یہ پانچ بنیادی صفتیں ہیں، یہ صفتیں ہر انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں۔ جو شخص اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھے وہ گویا قرآن سے ہدایت لینے کے لئے ایک تیار ذہن (prepared mind) ہے۔ جب بھی وہ کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھے گا تو وہ اس کے لئے معرفتِ حق کا ذریعہ بن جائے گا اور اس کا وہی حال ہوگا جس کا ذکر قرآن کی سورہ المائدہ آیت نمبر ۸۳ میں کیا گیا ہے۔
سوال
انٹرنیٹ پر جو سوالات ہم کو موصول ہوتے ہیں ان کا جواب عام طور پر انٹرنیٹ کے ذریعہ دیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ موصول شدہ ایک عمومی سوال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان مختلف مقامات پر جو جہاد کر رہے ہیں مغربی میڈیا اس کو فنائسزم کہہ کر بدنام کر رہا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ مسلمانوں کی لڑائی عدل(justice) کے حصول کے لئے ہے۔ جب مسلمانوں کو عدل نہ ملے تو ان کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا کہ وہ لڑ کر عدل کو حاصل کریں۔ اگر ان کی لڑائی سے امن برہم ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری دوسروں پر ہے نہ کہ مسلمانوں پر۔ ان کا پتہ یہ ہے : Mahmood H. M. Daya, P. O. Box 14757, Arusha, Tanzania. جواب عدل کے حصول کا کوئی تعلق جنگ سے نہیں۔ عدل جب بھی کسی کو ملتا ہے، پرامن تعمیری جدوجہد کے ذریعہ ملتا ہے نہ کہ متشددانہ جنگ کے ذریعہ۔ جنگ کے ذریعہ عدل حاصل کرنے کی کوشش ایسی ہی ہے جیسے معاش کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کوئی شخص خود کشی کرلے۔ اسلام کے دور اول میں اہل اسلام کے ساتھ سب سے بڑی بے انصافی یہ تھی کہ ان کو مسجد
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues