Al-Risala · June 2000 · page 44

۳؍اپریل۲۰۰۰ دعاگو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۴۴

حرام تک پہنچنے سے روک دیا گیا تھا۔ مگر اس بے انصافی کو ختم کرنے کے لئے رسول اللہ نے جنگ نہیں کی بلکہ صلح اور امن کا معاہدہ کر لیا۔ صلح کے نتیجہ میں وہ پرامن حالات ملے جس میں استحکام کی کوشش کی جاسکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پرامن کوششوں کے ذریعہ اسلام اتنا مستحکم ہو گیا کہ کسی لڑائی کے بغیر مسجد حرام اور مکہ اہل اسلام کے قبضہ میں آگیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اگر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو انھیں جاننا چاہئے کہ اس ناانصافی کا اصل سبب خود مسلمانوں کا داخلی ضعف ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ امن کے حالات پیدا کر کے وہ تعمیری عمل کریں جس سے ان کی داخلی کمزوریاں دور ہو جائیں۔ اس کے بعد اپنے آپ انھیں انصاف مل جائے گا۔

سوال

میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ فطرت کے تمام قوانین کو ایک جملہ میں جاننا چاہتا ہوں تاکہ زندگی کے ہر معاملہ میں اس جملہ کو بنیادی نقطۂ نظر بنا سکوں۔ (سید عبد الحفیظ ، جلگاؤں) جواب فطرت کے قوانین کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے۔ حقیقت پسندی۔ عام طور پر لوگوں کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ میرے موافق ہے وہ درست ہے۔ اور جو میرے خلاف ہے وہ نادرست۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ جو حقیقت واقعہ ہو اس کو صحیح اور درست مانا جائے۔ اس دنیا میں جب بھی کوئی شخص ناکام ہوتا ہے تو وہ قوانین فطرت کی خلاف ورزی کرنے کی بنا پر ناکام ہو تا ہے، خواہ وہ بطور خود دوسروں کی سازش کو اس کا ذمہ دار بتاتارہے سوال دہلی کے ایک ہفتہ وار ہندی اخبار پنج جنیہ کے حوالہ سے آپ کے خلاف کچھ باتیں اردو اخبارات در سائل میں چھپی ہیں۔ مثلا ماہنامہ البلاغ (بمبئی) کے شمارہ فروری ۱۹۹۹ میں یہ چھپا ہے کہ مولانا وحید الدین خاں نے فرمایا کہ "قرآن مجید میں لگ بھگ۱۰۰دوسری زبانوں کے الفاظ ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page