Al-Risala · June 2000 · page 45

۳؍اپریل۲۰۰۰ دعاگو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۴۵

جن میں سنسکرت خاص ہے اور یہ کہ محمد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو جن چار زبانوں پر عبور حاصل تھا ان میں سنسکرت بھی ایک تھی۔ ‘‘ (صفحہ ۴۶) اس طرح کی باتیں اور بھی کئی پرچوں میں چھپی ہیں۔ مثلاً دہلی کے روزنامہ قومی آواز کے شمارہ ۹ جنوری ۱۹۹۹ میں مراسلہ کے کالم میں آپ کی ایک تقریر کے حوالہ سے آپ کی طرف یہ الفاظ منسوب کسئے گئے ہیں کہ ”قرآن کریم میں ایک سوالفاظ غیر عربی کے شامل ہیں جن میں بڑی تعداد سنسکرت کے الفاظ کی ہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم چار زبانوں کے عالم تھے جن میں سے ایک سنسکرت زبان ہے۔ ‘‘ (صفحہ ۳) یہ بڑی عجیب باتیں ہیں۔ ان کو لے کر کچھ مسلم اخبارات و رسائل میں آپ کے خلاف سخت باتیں چھپی ہیں۔ براہ کرم بتائیں کہ اس معاملہ کی حقیقت کیا ہے (عبدالرحمن، نئی دہلی)

جواب

یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں جو غیر ذمہ دارانہ صحافت کی پیداوار ہیں۔ اس صحافت کا شکار ہر وہ شخص ہو تا رہا ہے جو ”نیوز‘‘ میں آجاۓ۔ چنانچہ میرے خلاف بھی کچھ مسلم اخبارات و رسائل میں ایسے خطوط اور مضامین چھپتے رہے ہیں جو سراسر لغو اور بے بنیاد ہیں۔ میں ان کے بارے میں عام طور پر خاموشی کا رویہ اختیار کرتا ہوں اور مراسلہ نگاروں کے حق میں دعائے خیر کرتا ہوں۔ اس سے پہلے ایک بار قومی آواز میں میرے خلاف ایک بے بنیاد بات چھپی۔ اس کی تردید میں میں نے ایک مراسلہ بھیجا جو قومی آواز (۵ مارچ ۱۹۹۵) میں چھپا۔ میرے جوابی مراسلہ کو دیکھ کر تبلیغی جماعت کے معروف بزرگ مولانا اظہار الحسن صاحب مرحوم نے مجھے ایک خط لکھا۔ اس میں مجھے خاموشی کے اصول پر برقرار رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے انھوں نے یہ شعر درج کیا تھا: اشارتاً بھی نہ قصے بیاں کئے ہوتے ئے تھے ہونٹ تو آنسو بھی پی لئے ہوتے سوال آج کل دستور ہند میں تبدیلی کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ کوئی تبدیلی کی موافقت میں رائے دیتا ہے اور کوئی اس کی مخالفت میں۔ اس معاملہ میں آپ کی رائے کیا ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page