۳؍اپریل۲۰۰۰ دعاگو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۴۶
براہ کرم مطلع فرمائیں۔ (ودود ساجد ، نئی دہلی)
جواب
دستور ہند میں تبدیلی کی بحث میں ایک رائے یہ سامنے آرہی ہے کہ دستور میں تبدیلی ہونی چاہئے۔ اور دوسری رائے یہ ہے کہ دستور میں تبدیلی نہیں ہونی چاہئے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ایک تیسری رائے کا بھی امکان ہے۔ اور وہ یہ کہ دستور ہند میں تبدیلی بے فائدہ ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا سوال یہ ہے کہ دستور ہند میں تبدیلی کیوں؟ ۱۹۷۲ کے بعد جب یہ دستور بنا تو اس وقت ملک کے انتہائی اعلیٰ ذہن دستور ساز اسمبلی کے ممبر تھے۔ انھوں نے لمبی بحث اور گفتگو کے بعد یہ دستور بنایا۔ اب کیا ان سے زیادہ بہتر دماغ ہمیں حاصل ہو گئے ہیں جو اس سے اچھا دستور بنا سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ پھر تبدیلی کس لئے۔ دوسری بات یہ کہ دستور میں تبدیلی ہمارے قومی مسائل کا حل ہے، اس کا دعویٰ کرنا بھی مشکل ہے۔ اس لئے کہ اگر دستور کی ترمیم سے مسئلہ حل ہوتا ہو تو اب تک اس کو حل ہو جانا چاہئے تھا، کیوں کہ پچھلے پچاس سال کے دوران اس میں ستر بار سے زیادہ ترمیمات ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ پھر ایک اور ترمیم سے یہ مسئلہ کیسے حل ہو جائے گا۔ تیسری صورت ترمیم برائے ترمیم کی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اور بھی زیادہ بے معنی ہے۔ کوئی بھی شخص یہ کہنے کی جرأت نہیں کرے گا کہ ترمیم ایک مسلسل عمل ہے جس کو ہر حال میں جاری رہنا چاہئے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اصل سوال یہ نہیں ہے کہ دستور میں ترمیم کی ضرورت ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترمیم کے باوجود یہ ضرورت کیوں باقی ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ ترمیم کے باوجود ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے۔ اس کا جواب صرف ایک ہے اور وہ ہے تعلیم میں ملک کا پچھڑاپن۔ تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے۔ اور اس کے اندر اصلاح کی قبولیت پیدا کرتی ہے۔ جب تک یہ ابتدائی کام نہ ہو، کوئی دوسری تدبیر ہمارے مسائل کو حل کرنے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues